ابھی ابھی
ٹیکنالوجی3 ذرائع سے تصدیق شدہ

نیشنل کیرٹ کا بینکوں اور یوٹیلیٹیز کو اے آئی سائبر حملوں سے خبردار

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی اور خودکار ٹولز سے مربوط سائبر حملے کیے جا رہے ہیں۔ اس کے مطابق بینک، مالیاتی ادارے اور اہم انفراسٹرکچر زیادہ خطرے میں ہیں۔

نیشنل کیرٹ کا بینکوں اور یوٹیلیٹیز کو اے آئی سائبر حملوں سے خبردار
تصویر: Alexandra_Koch / Pixabay
اہم نکات
  • ایڈوائزری 5 نومبر کو جاری ہوئی۔
  • بینک، تیل و گیس، پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے نظام ہدف قرار دیے گئے ہیں۔
  • بینکوں کو ملٹی فیکٹر تصدیق اپنانے اور صارفین کو دکھائے جانے والے بیلنس کو اندرونی ریکارڈ سے ملانے کا مشورہ دیا گیا۔
5 نومبرایڈوائزری کا اجرا

پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (این سرٹ) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کو مربوط سائبر حملوں کے لیے تیزی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق بینک، مالیاتی ادارے اور اہم انفراسٹرکچر زیادہ خطرے میں ہیں۔ منٹ مرر کے مطابق ایڈوائزری 5 نومبر کو جاری کی گئی۔

ایڈوائزری کے مطابق سائبر مجرم اے آئی ٹیکنالوجی سے نظاموں کی کمزوریاں تلاش کرتے ہیں، ہدف کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں اور چرائے گئے لاگ اِن کوائف کے ذریعے خودکار حملے کرتے ہیں۔ این سرٹ کے مطابق ان ٹولز سے سائبر کارروائیوں کی رفتار، پیمانہ اور پیچیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ایڈوائزری تمام شعبوں پر لاگو ہے، تاہم مالیاتی خدمات اور آپریشنل ٹیکنالوجی، خصوصاً اہم انفراسٹرکچر، پر خاص توجہ کی ضرورت بتائی گئی ہے۔

بینکوں کے لیے ممکنہ خطرات میں ڈیجیٹل بینکنگ خدمات میں رکاوٹ، صارفین کے اکاؤنٹس تک خودکار رسائی کی کوششیں اور صارفین کو دکھائے جانے والے بیلنس میں ردوبدل شامل ہیں۔ این سرٹ کے مطابق ایسی تبدیلیوں سے صارفین میں الجھن اور گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ کور بینکنگ، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز، ادائیگی کے نظام، اے پی آئی اور کسٹمر ایپلیکیشنز کو بھی خطرہ بتایا گیا ہے۔

اہم انفراسٹرکچر میں تیل و گیس کی تنصیبات، پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک، بجلی کی پیداوار و ترسیل، صنعتی یونٹس اور ٹرانسپورٹ خدمات کا ذکر ہے۔ این سرٹ کے مطابق کامیاب حملہ طبعی آپریشنز میں مداخلت اور بنیادی عوامی خدمات میں خلل ڈال سکتا ہے۔

ایڈوائزری میں یورپ میں حالیہ سائبر واقعات کا حوالہ دیا گیا جن سے سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹم متاثر ہوئے۔ این سرٹ نے کہا کہ ان واقعات میں اے آئی کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی۔

این سرٹ نے نگرانی کے لیے علامات بتائی ہیں: لاگ اِن کی غیر معمولی کوششیں، بار بار تصدیق کی ناکامی، کریڈینشل اسٹفنگ، اے پی آئی کی غیر معمولی درخواستیں، ایپلیکیشن کی ترتیب میں تبدیلی اور غیر متوقع لین دین۔ اس کے مطابق کور بینکنگ ریکارڈ اور صارفین کو دکھائے گئے بیلنس میں فرق ہیرا پھیری کی علامت ہو سکتا ہے۔

بینکوں کو ملٹی فیکٹر تصدیق، خودکار لاگ اِن کے خلاف مضبوط حفاظت اور صارفین کو دکھائی جانے والی معلومات کو اندرونی ریکارڈ سے باقاعدگی سے ملانے کی سفارش کی گئی۔ یوٹیلیٹیز اور انفراسٹرکچر چلانے والوں کو انٹرنیٹ سے براہِ راست رسائی محدود کرنے، ریموٹ رسائی محفوظ بنانے، منسلک آلات اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کی حفاظت کا جائزہ لینے اور آپریشنل ٹیکنالوجی نیٹ ورکس کو عام آئی ٹی نظام سے الگ رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔

این سرٹ نے اداروں پر زور دیا کہ وہ سیکیورٹی اپ ڈیٹس باقاعدگی سے انسٹال کریں، آپریشنل نیٹ ورکس تک رسائی کی نگرانی کریں، بیک اپ کا طریقہ کار رکھیں، واقعات کا تفصیلی ریکارڈ رکھیں اور نگرانی، ہنگامی ردعمل اور کاروباری تسلسل کے انتظامات مضبوط کریں۔ اداروں سے اے آئی کی مدد سے ہونے والے حملوں کے لیے اپنی تیاری کا جائزہ لینے کو بھی کہا گیا۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ این سرٹ نے بینکوں اور اہم انفراسٹرکچر کو اے آئی سے لاحق سائبر خطرات پر ایڈوائزری جاری کی۔ 26 اکتوبر کو خبر ڈاٹ پی کے نے واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے میلویئر حملوں پر این سرٹ کے ایک الگ اعلیٰ سطحی الرٹ کی خبر دی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

اگر حملہ آور ڈیجیٹل بینکنگ خدمات یا اکاؤنٹس میں دکھائے جانے والے بیلنس کو نشانہ بنائیں تو پاکستان میں بینک صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایڈوائزری میں تیل و گیس، پانی کی فراہمی، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے نظام بھی شامل ہیں جن پر گھرانے اور کاروبار روزانہ انحصار کرتے ہیں۔ ایڈوائزری کی سفارشات پر عمل کی ذمہ داری بینکوں اور انفراسٹرکچر چلانے والے اداروں سے متعلق ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

نیشنل کیرٹسائبر سیکیورٹیبینکاری

اس خبر پر مزید