نیشنل سرٹ کا واٹس ایپ ویب اور ای میل کے ذریعے سائبر حملوں پر ہائی الرٹ
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واٹس ایپ ویب، ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں پر ہائی الرٹ جاری کیا ہے۔ ایڈوائزری میں سرکاری حکام اور حساس معلومات رکھنے والے افراد کیلئے خطرہ ہائی قرار دیا گیا ہے۔

- الرٹ واٹس ایپ ویب، ڈیسک ٹاپ اور ای میل سے متعلق ہے
- سرکاری حکام اور حساس معلومات والوں کیلئے خطرہ ہائی قرار
- حملہ آور سرکاری حکام اور محکموں کی نقالی کر رہے ہیں
- سافٹ ویئر اپ ڈیٹ اور دوہری تصدیق فعال کرنے کی سفارش
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور ای میل کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔
ایڈوائزی میں سرکاری حکام اور حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کیلئے خطرے کی شدت ہائی قرار دی گئی ہے اور انہیں سائبر سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق حملہ آور سرکاری حکام اور محکموں کی نقالی کرکے ٹارگٹڈ فشنگ اور میلویئر حملوں کے ذریعے حساس معلومات تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے نام پر بھیجی جانے والی نقصان دہ فائلوں سے ونڈوز سسٹمز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق سسٹم متاثر ہونے کی صورت میں حملہ آور کمپیوٹر کا ریموٹ کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں، پاس ورڈز چرا سکتے ہیں اور اہم ڈیٹا تک پہنچ سکتے ہیں۔ واٹس ایپ ویب سیشن ہائی جیک ہونے پر متاثرہ نمبر سے جعل سازی اور مزید افراد کو نشانہ بنانے کا خطرہ بھی ہے۔
ایڈوائزری میں خطرے کی علامات بتائی گئی ہیں۔ کسی جانے پہچانے نمبر سے غیر متوقع پیغام یا فائل آنا اور واٹس ایپ کے لنکڈ ڈیوائسز سیکشن میں نامعلوم ڈیوائس نظر آنا ممکنہ حملے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
حساس معلومات رکھنے والے افسران کو ونڈوز کمپیوٹرز پر واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ استعمال نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ صارفین سے کہا گیا ہے کہ مشکوک سیشنز فوراً ختم کریں اور کسی غیر مصدقہ لنک، فائل یا پیغام کو کھولنے سے پہلے آزادانہ تصدیق کریں۔
مزید کہا گیا ہے کہ پاس ورڈ، او ٹی پی اور تصدیقی کوڈ کسی سے شیئر نہ کیے جائیں اور واٹس ایپ پر موصول فائلیں سرکاری ونڈوز کمپیوٹرز پر منتقل نہ کی جائیں۔ ونڈوز، براؤزرز اور دیگر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ رکھنے، دوہری تصدیق اور واٹس ایپ ٹو سٹیپ ویریفکیشن فعال کرنے کی بھی سفارش ہے۔
ڈیوائس متاثر ہونے کا شبہ ہو تو اسے فوراً نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سے الگ کیا جائے، متعلقہ پیغامات اور سسٹم لاگز ممکنہ ثبوت کے طور پر محفوظ رکھے جائیں اور مشکوک فائلیں یا لنکس دوبارہ نہ کھولے جائیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں سرکاری حکام اور حساس معلومات رکھنے والے افراد کیلئے خطرہ ہائی قرار دیا گیا ہے، جبکہ واٹس ایپ ویب اور ای میل استعمال کرنے والے دیگر صارفین بھی ان حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔



