مہمند میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی
خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں انسداد پولیو ٹیم کی ڈیوٹی پر مامور دو پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

- منگل کو مہمند کے علاقے تمنزئی میں دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔
- ایک حملہ آور کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
- ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ٹانک میں چار پولیو ورکرز اغوا ہوئے۔
- این ای او سی کے مطابق 97 اضلاع میں خصوصی مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق منگل کو خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ویکسینیشن ٹیم پر فائرنگ کی، جس سے دو پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔
واقعہ تھانہ پانڈیالی کی حدود میں تمنزئی کے علاقے میں پیش آیا، جہاں اہلکار انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر تھے۔ ڈیلی پاکستان نے جیو نیوز کے حوالے سے علاقے کا نام ڈاگ تمنزئی بتایا۔
شہید اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی جبکہ زخمی اہلکار کی شناخت صابر کے طور پر ہوئی۔ پولیس کے مطابق زخمی اہلکار کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈی پی او مہمند رضا محمد خان کے مطابق واقعے میں ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں ناکہ بندی کر دی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ کی مذمت کی اور دونوں شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکار ہمارے صحت مند مستقبل کے لیے کوشاں ہیں۔ (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے واقعے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ فائرنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک میں چار پولیو ورکرز کے اغوا اور مہمند میں دو اہلکاروں کی شہادت پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "پولیو ورکرز بچوں کے محفوظ مستقبل اور صحت مند پاکستان کے لیے قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں"۔ گورنر کے مشیر برائے اطلاعات رمل تھمر بلور نے بھی دونوں واقعات پر افسوس ظاہر کیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ضلع ٹانک کے گاؤں جیوس، شیخ عطار یونین کونسل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کے بعد چار پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا۔ لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک سے اغوا ہونے والی ٹیم کے دو ارکان بعد میں رہا کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق اس اغوا میں کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ مسلح افراد مبینہ طور پر ملوث تھے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 نومبر کو 97 منتخب اضلاع میں خصوصی انسداد پولیو مہم شروع ہوئی جو 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ مرکز نے اس سال ملک میں پولیو کے ساتویں کیس کی بھی تصدیق کی، جو ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی 13 ماہ کی بچی میں سامنے آیا۔
یہ کیوں اہم ہے
پولیو ٹیموں اور ان کے ساتھ تعینات پولیس پر حملے ملک بھر کے بچوں کو تحفظ دینے والی ویکسینیشن مہم کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ اس سال ساتویں پولیو کیس کی تصدیق ہو چکی ہے۔



