ابھی ابھیپاکستان کے چین کے ساتھ تعلیم کے 11 معاہدے، نوجوانوں کی مہارتوں پر زوریوکرین کے گاؤں کومیشووخا میں اسکول پر روسی حملہ، کم از کم 31 ہلاکپاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے فعاذ میزائل کا تجربہ
کاروبار6 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی

17 اکتوبر کو ایران کی دو سرحدی گزرگاہیں بند ہونے اور درآمد رکنے کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ لاہور کے رکشہ ڈرائیوروں کے مطابق ان کی کمائی تیزی سے گھٹ گئی ہے۔

Auto rickshaw in Rewari, India
Auto rickshaw in Rewari, India تصویر: Clément Bardot / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • تاجروں کے مطابق 12 کلو کا سلنڈر چند دن میں 56 فیصد بڑھ کر 7,000 روپے کا ہو گیا۔
  • پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق بندش سے پہلے ایران سے روزانہ تقریباً 7,000 میٹرک ٹن ایل پی جی آتی تھی۔
  • رکشہ ڈرائیور راشد علی کی روزانہ آمدن 6.50 ڈالر سے گھٹ کر تقریباً 3 ڈالر رہ گئی۔
7,000 روپے12 کلو سلنڈر کی قیمت
56 فیصدچند دن میں اضافہ
9.6 فیصداکتوبر میں مہنگائی
12 فیصدشرح سود

پاکستان میں 17 اکتوبر کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جب ایران کی دو سرحدی گزرگاہیں بند ہوئیں اور درآمدات رک گئیں۔ ایل پی جی سلنڈروں میں فروخت ہوتی ہے اور بنیادی طور پر کھانا پکانے اور گرمی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس پر گاڑیاں چلانے والے ڈرائیور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق بندش سے پہلے ایران سے روزانہ تقریباً 7,000 میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد ہوتی تھی۔ تاجروں کے مطابق 12 کلو کے سلنڈر کی قیمت چند دن میں 56 فیصد بڑھ کر 7,000 روپے ہو گئی، یعنی کھلی مارکیٹ میں تقریباً 583 روپے فی کلو۔

عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری نے ایل پی جی کو "غریب کا ایندھن" (انگریزی سے ترجمہ) قرار دیا۔ ان کے مطابق یونین کے 43,000 آٹو رکشوں اور تقریباً 8,000 چنگچیوں میں سے قریباً 70 فیصد ایل پی جی پر چلتے ہیں۔

لاہور میں 33 سالہ راشد علی 13 برس سے تین پہیوں والا رکشہ چلا رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے تک روزانہ 6.50 ڈالر کما لیتے تھے، مگر اب تقریباً 3 ڈالر کماتے ہیں۔ ان کے گھر والوں نے دن میں دو بار کھانے پر گزارا شروع کر دیا ہے۔

علی رکشے کا یومیہ کرایہ 600 روپے دیتے ہیں اور دن میں چار پانچ بار 300 سے 400 روپے کی گیس بھرواتے ہیں۔ وہ گھر کا 11,000 روپے ماہانہ کرایہ دیتے ہیں اور ان کے دو چھوٹے بچے ہیں۔

راشد علی کے مطابق مسافر زیادہ کرایہ دینا نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہا: "پہلے جب ایل پی جی سستی تھی تو ہم معقول آمدن کما لیتے تھے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انھوں نے مزید کہا: "جس سفر کا کرایہ 200 یا 250 روپے ہونا چاہیے، اس کے لیے وہ صرف 80، 100 یا 150 روپے دینے کو تیار ہوتے ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔

ایک مسافر محمد رمضان نے بتایا کہ ایک ڈرائیور نے شہر کے اندر سفر کے 500 روپے مانگے، انھوں نے آدھے کی پیشکش کی اور ڈرائیور کے انکار پر وہاں سے چل دیے۔

فروری میں شروع ہونے والی امریکا ایران جنگ کے بعد یہ توانائی کا تازہ جھٹکا ہے۔ اکتوبر میں مہنگائی 9.6 فیصد رہی اور مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے توانائی اور گندم کی قیمتوں کا حوالہ دے کر شرح سود 12 فیصد کر دی۔ پیٹرول 3 اپریل کو 458 روپے فی لیٹر کی ریکارڈ سطح پر پہنچا اور جنگ سے پہلے کی قیمت سے اب بھی تقریباً 40 فیصد اوپر ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

ایل پی جی کھانا پکانے اور گاڑیوں میں عام استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس کی مہنگائی گھریلو بجٹ اور رکشہ ڈرائیوروں جیسے ٹرانسپورٹ کارکنوں کی آمدن پر دباؤ ڈالتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایل پی جیلاہورتوانائی کی قیمتیں

اس خبر پر مزید