اسلام آباد کی اے ٹی سی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے منگل کو وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کر لی۔ کیس میں سڑک بند کرنے اور پولیس سے جھگڑے کا الزام ہے۔

- ضمانت 5 ہزار روپے فی کس کے مچلکوں پر منظور ہوئی۔
- سماعت کے دوران پولیس نے کیس کا ریکارڈ پیش کیا۔
- مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے منگل کو وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت سڑک بند کرنے اور پولیس سے جھگڑے کے مقدمے میں منظور کر لی۔
عدالت نے دونوں کی درخواستِ ضمانت 5 ہزار روپے فی کس کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔ کیس کی سماعت جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ رپورٹس کے مطابق مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے۔
سماعت کے دوران پولیس نے کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ ایکسپریس نیوز اور جنگ کے مطابق سرکاری وکیل ریاض علی آزاد نے جج کو بتایا: "سر آج ریکارڈ آ گیا ہے"۔ منٹ مرر نے سرکاری وکیل کا نام ریاست علی لکھا ہے۔
جج نے کہا کہ وہ پولیس کو جاری شوکاز نوٹس کے معاملے کو دیکھیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا: "آج بھی ریکارڈ نہ آتا تو میں بتاتا ان کو"۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایک ہفتے سے کم عرصہ قبل ایک اے ٹی سی نے سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے کے مقدمے میں دونوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 186 اور 353 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7(ایچ) کے تحت سزا ہوئی۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دس سال قید کے ساتھ ایک لاکھ روپے فی کس جرمانہ بھی ہوا۔
اخبار کے مطابق دونوں کو اکتوبر 2024 میں اس تصادم کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جو انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے لیے علاقہ بند کرنے والی ٹریفک پولیس سے ہوا۔ جنوری میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمات میں انہیں مجموعی طور پر 17 سال قید سنائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزا معطل ہونے کے فوراً بعد 17 ستمبر کو انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ فیصلہ دو نمایاں پاکستانی وکلا سے متعلق ہے جو دارالحکومت میں سڑکیں بند ہونے والے احتجاج پر عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔



