ابھی ابھیشاہراہِ فیصل پر کسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں ہوگی، شرجیل میمنابوظہبی میں 10 اور 11 نومبر کو امریکی ثالثی میں روس یوکرین مذاکراتیورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا درجہ 2028 کے آخر تک برقرار رہے گا
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

سانحہ پمز: ایف آئی آر کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پمز میں نومولود بچوں کی اموات پر ایف آئی آر کی درخواست مسترد کرنے کا حکم معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی اور دارالحکومت کے حکام کو نوٹس جاری کیے اور سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Photo: hammer, libra, dish, justice
Photo: hammer, libra, dish, justice تصویر: succo / Pixabay
اہم نکات
  • ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کا ایف آئی آر مسترد کرنے کا حکم معطل کیا۔
  • وفاقی حکومت، محکمہ صحت، سی ڈی اے، پولیس اور ایف آئی اے سمیت حکام کو نوٹس جاری ہوئے۔
  • 26 اگست کی آگ میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے، ایک اور بچہ چند روز بعد چل بسا۔
  • سماعت 12 نومبر تک ملتوی۔
14آگ میں جاں بحق نومولود
50 لاکھ روپےہر خاندان کے لیے اعلان کردہ معاوضہ
12 نومبراگلی سماعت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کی اموات پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے انکوائری رپورٹ اور مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے وکیل ریاض حنیف راہی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں بچوں کی اموات پر مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت صحت، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو نوٹس جاری کیے۔ سی ڈی اے، کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس بھیجے گئے۔

رپورٹس کے مطابق 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی تیسری منزل پر نرسری میں آگ لگی۔ اس وقت نرسری میں 15 بچے تھے اور صرف ایک کو بچایا جا سکا، جو چند روز بعد دم توڑ گیا۔ وفاقی حکومت نے ہر متاثرہ خاندان کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا تھا۔

ریاض حنیف راہی نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری رپورٹ میں غفلت کی نشاندہی کے باوجود اب تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ ان کے مطابق جسٹس آف پیس نے ہائیکورٹ میں درخواستیں زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ایف آئی آر کی استدعا مسترد کی، حالانکہ انہوں نے تھانے میں درخواست دی تھی۔

جسٹس سومرو نے پوچھا کہ واقعے کے بعد کوئی انکوائری ہوئی یا نہیں، تو وکیل نے بتایا کہ رپورٹ میں غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جج نے کہا کہ وہ تمام رپورٹس اور شواہد طلب کریں گے اور غفلت سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیں گے۔

9 ستمبر کو سینیٹ کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا، جس پر کمیٹی نے ایف آئی آر درج کرنے اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد راہی جسٹس آف پیس کے پاس گئے، مگر درخواست مسترد ہوئی۔ 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت نے بھی درخواست مسترد کی، جس پر وہ ہائیکورٹ پہنچے۔

عدالت نے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔

یہ کیوں اہم ہے

معاملہ دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں بچوں کی اموات کا ہے، جو ملک بھر میں سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے اہم ہے۔ عدالت کے فیصلے سے طے ہو سکتا ہے کہ فوجداری مقدمہ درج ہوتا ہے یا نہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پمزاسلام آباد ہائیکورٹاسلام آباد

اس خبر پر مزید