قومی اسمبلی نے حکومت کے چار بل اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیے
قومی اسمبلی نے جمعہ کو شق وار غور کے بعد حکومت کے چار بل اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیے۔ ان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل بھی شامل ہے۔

- شق وار غور کے بعد چار حکومتی بل اکثریتی ووٹ سے منظور
- بلوں میں ایچ ای سی، این ایف سی آئی ای ٹی ملتان، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی اور ایک قومی اتھارٹی سے متعلق ترامیم شامل
- ایوان کو بتایا گیا کہ گیس کی کمی سے یوریا کے دو پلانٹ بند ہیں
- وزیر صحت کے مطابق جعلی ادویات کے خلاف منصوبہ نومبر کے آخر تک شروع ہو گا
قومی اسمبلی نے جمعہ کو شق وار غور کے بعد حکومت کے چار بل اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیے۔ اے پی پی اور 24 نیوز نے یہ خبر دی۔
منظور ہونے والے بلوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ترمیمی) بل 2026، این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان (ترمیمی) بل 2026، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی (ترمیمی) بل 2026 اور نیشنل رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 شامل ہیں۔
24 نیوز کے مطابق ایوان کو بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ گیس کی کمی کے باعث ملک میں یوریا کے دو پلانٹ عارضی طور پر بند ہیں، جس سے کھاد کی دستیابی میں 2 لاکھ ٹن سے زائد کمی آئی ہے۔
ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان اپنی تقریباً 50 فیصد کھاد کی ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں کھاد کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری شائستہ خان نے کہا کہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی وزارت آسان قرضوں سمیت کسانوں کی ضروریات کو ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گندم میں ریت اور مٹی کی ملاوٹ پر متعلقہ وزیر نے کارروائی کی ہے اور این اے آر سی میں بیجوں کی نئی اقسام پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جعلی ادویات کے خلاف منصوبے کا باضابطہ آغاز وزیر اعظم نومبر کے آخر تک کریں گے۔ اس کے تحت صارفین فارمیسی پر موبائل فون سے ٹو ڈی بار کوڈ اسکین کر کے دوا کی اصلیت جانچ سکیں گے۔ نظام منظور شدہ قیمت اور میعاد کی تصدیق کرے گا اور ڈریپ کو جعلی ادویات بنانے اور تقسیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری میں خود کفیل بنانے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے رابطہ موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن اور الیکٹرانک ٹکٹ بکنگ شروع کی ہے۔
گندم کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ پاسکو کے خاتمے کے بعد دستیاب ذخائر کی تقسیم کے لیے متعلقہ اداروں اور صوبوں کو خطوط بھیجے گئے۔ بلوچستان، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں کو گندم فراہم کی جا رہی ہے اور درآمد شدہ ذخائر گوداموں تک پہنچ چکے ہیں۔ گندم کی نقل و حرکت اور صوبوں کو ترسیل کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ والا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق پاسکو مالی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے زوال کا شکار ہوا، کیونکہ کچھ صوبے اس کے واجبات اور بل بروقت ادا نہیں کر رہے تھے۔ حکومت گندم کی فراہمی میں نجی شعبے کو شامل کرنا چاہتی ہے اور نجی کمپنیوں کی نگرانی اور جواب دہی کے لیے نظام بنایا جا رہا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ترمیم شدہ قوانین اعلیٰ تعلیمی اداروں اور جامعات کے انتظام پر اثر ڈالتے ہیں۔ اجلاس میں کھاد کی فراہمی، گندم کی تقسیم اور ادویات کی تصدیق پر بھی بات ہوئی، جو کسانوں، صارفین اور مریضوں سے متعلق ہے۔



