ابھی ابھیآسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹر نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانوں کا منصوبہپشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی حراست کا کیس بڑے بینچ کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دیاگوہر: عمران خان نے کے پی حکومت کے خاتمے کو خوش آئند نہیں کہا
سائنس4 ذرائع سے تصدیق شدہ

2025 میں گرین ہاؤس گیسوں کی سطح نئی ریکارڈ بلندی پر، ڈبلیو ایم او

عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ تینوں کی مقدار 2025 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ یہ رپورٹ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں کاپ 31 اجلاس سے پہلے جاری کی گئی۔

Photo: industry, nature, sunset, pollution
Photo: industry, nature, sunset, pollution تصویر: SD-Pictures / Pixabay
اہم نکات
  • ڈبلیو ایم او کے مطابق 2025 میں CO2 کی مقدار 426.8 پی پی ایم رہی، جو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 53 فیصد زیادہ ہے۔
  • میتھین 1948 اور نائٹرس آکسائیڈ 339.1 پی پی بی کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔
  • ادارے کے مطابق ہائیڈروجن اور سلفر ہیکسافلورائیڈ پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
426.8 پی پی ایم2025 میں CO2 کی مقدار
1948 پی پی بی2025 میں میتھین
339.1 پی پی بی2025 میں نائٹرس آکسائیڈ
2.8 پی پی ایم2024 سے 2025 میں CO2 میں اضافہ

اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے عالمی ادارہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) نے منگل کو بتایا کہ 2025 میں فضا میں تین بڑی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ادارے کے مطابق اس اضافے سے آنے والے طویل عرصے میں درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور موسمیاتی اثرات صدیوں تک برقرار رہیں گے۔

یہ نتائج ادارے کے 22ویں سالانہ گرین ہاؤس گیس بلیٹن میں شامل ہیں، جو اقوام متحدہ کے موسمیاتی اجلاس کاپ 31 سے پہلے جاری ہوا۔ یہ اجلاس 9 سے 20 نومبر تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہوگا۔ بلیٹن میں سالانہ اخراج کے بجائے فضا میں گیسوں کی موجودگی کی مقدار دیکھی جاتی ہے۔

2025 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی عالمی اوسط مقدار 426.8 پارٹس پر ملین رہی۔ میتھین 1948 اور نائٹرس آکسائیڈ 339.1 پارٹس پر بلین ریکارڈ کی گئی۔ بلیٹن کے مطابق یہ بالترتیب 1750 سے پہلے کی سطح کا 153، 267 اور 126 فیصد ہیں۔ نیو سائنٹسٹ نے CO2 کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 53 فیصد زیادہ بتایا ہے۔

2024 سے 2025 کے دوران CO2 میں 2.8 پی پی ایم اضافہ ہوا۔ یہ 2023 سے 2024 کے ریکارڈ اضافے 3.6 پی پی ایم سے کم ہے، مگر گزشتہ دہائی کی اوسط شرح 2.6 پی پی ایم سے زیادہ ہے۔ 1960 کی دہائی میں یہ شرح 0.8 پی پی ایم تھی۔ ڈبلیو ایم او کی سینئر سائنسی افسر اوکسانا تاراسووا کے مطابق کم اضافہ 2023/2024 کے مضبوط ایل نینو کے بعد زمینی کاربن ذخائر کی بحالی اور آگ سے کم اخراج کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2.8 پی پی ایم پھر بھی فوسل فیول جلانے سے کاربن کا نمایاں اضافہ ہے، اور فوسل فیول کے استعمال اور ایک طاقتور ایل نینو کی وجہ سے 2026 میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

ادارے کے مطابق طویل عرصے تک رہنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے حرارتی اثر کا تقریباً 66 فیصد CO2 اور تقریباً 16 فیصد میتھین کا ہے۔ ہر سال خارج ہونے والی CO2 کا تقریباً نصف فضا میں رہ جاتا ہے، باقی زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں۔ میتھین کا تقریباً ایک تہائی قدرتی ذرائع جیسے دلدلی علاقوں سے آتا ہے، جبکہ باقی مویشیوں، دھان کی کاشت، کچرے کے ڈھیروں اور بائیو ماس جلانے جیسے ذرائع سے آتا ہے۔

ڈبلیو ایم او کی نائب سیکرٹری جنرل کو بیرٹ نے کہا کہ "ایک اور سال، ایک اور نیا ریکارڈ"۔ ان کے مطابق گرین ہاؤس گیسیں فضا میں غیر معمولی مقدار میں حرارت روک رہی ہیں، جس سے شدید موسم اور معیشتوں اور معاشروں کو لاحق خطرات بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 سال ریکارڈ پر سب سے گرم رہے ہیں۔

بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے ممالک توانائی کے نظام کو کاربن سے پاک کر رہے ہیں، مالیکیولر ہائیڈروجن اور سلفر ہیکسافلورائیڈ پر زیادہ توجہ دی جائے۔ ہائیڈروجن گرین ہاؤس گیس نہیں، مگر اس کا گلوبل وارمنگ پر بالواسطہ اثر مضبوط ہے اور 2010 سے 2024 کے درمیان اس کی مقدار 5.3 فیصد بڑھی۔ اس اضافے کی وجہ معلوم نہیں، تاہم اسے توانائی ذخیرہ کرنے میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔ سلفر ہیکسافلورائیڈ بجلی کی ترسیل میں چنگاری روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، تین دہائیوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے اور ڈبلیو ایم او کے مطابق اس کی 100 سالہ حرارتی صلاحیت CO2 سے تقریباً 24 ہزار گنا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ان ہیٹ ویوز، سیلابوں اور گلیشیئر پگھلنے کا سبب بنتا ہے جو پاکستان کو متاثر کرتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

گرین ہاؤس گیسیںڈبلیو ایم اوکاپ 31

اس خبر پر مزید