ہفتہ وار جائزہ: کے ایس ای 100 اوپر، روپیہ مستحکم، عالمی سونا مہنگا
کے ایس ای 100 انڈیکس 5 نومبر کو 175,380 پر بند ہوا، جبکہ 28 اکتوبر کو یہ 165,736.75 پر تھا۔ ڈالر روپے کے مقابلے میں تقریباً برابر رہا اور سونے کی قیمت ملک میں کم اور عالمی منڈی میں زیادہ رہی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- کے ایس ای 100 انڈیکس 5 نومبر کو 175,380 پر بند ہوا، 28 اکتوبر کو 165,736.75 تھا۔
- انٹربینک ڈالر 6 نومبر کو 276.66 روپے رہا، 29 اکتوبر کو 276.76 روپے تھا۔
- سونا فی تولہ 7 نومبر کو 419,600 روپے رہا، 30 اکتوبر کو 420,536 روپے تھا۔
- عالمی سونا 7 نومبر کو 4,072.10 ڈالر فی اونس رہا، 31 اکتوبر کو 3,876.40 ڈالر تھا۔
اس ہفتے کا سب سے نمایاں اعداد و شمار کے ایس ای 100 انڈیکس کا ہے۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق انڈیکس 5 نومبر کو 175,380 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ 28 اکتوبر کو یہ 165,736.75 پوائنٹس پر تھا۔
خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو بتایا کہ جمعہ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع لینے پر انڈیکس 1,493 پوائنٹس یعنی 0.85 فیصد گر کر 173,887 پر بند ہوا۔ اسی رپورٹ کے مطابق ہفتے بھر میں انڈیکس پھر بھی 7,477 پوائنٹس یعنی 4.49 فیصد بڑھا۔ تجارتی حجم 1.47 ارب شیئرز رہا جن کی مالیت 22.5 ارب روپے تھی۔
روپے میں معمولی ردوبدل ہوا۔ امریکی ڈالر کا انٹربینک اختتامی بھاؤ 6 نومبر کو 276.66 روپے رہا، جبکہ 29 اکتوبر کو 276.76 روپے تھا، یعنی 10 پیسے کا فرق۔ خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو یہ بھی بتایا کہ 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں پاکستان کے مجموعی liquid زرمبادلہ ذخائر 11 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 26.86 ارب ڈالر ہو گئے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس 21.56 ارب ڈالر اور commercial بینکوں کے پاس 5.30 ارب ڈالر تھے۔
سونے کی تصویر دو رخی رہی۔ صرافہ ڈیلرز کے مطابق 24 قیراط سونا 7 نومبر کو 419,600 روپے فی تولہ رہا، جو 30 اکتوبر کو 420,536 روپے تھا۔ عالمی منڈی میں سونا 31 اکتوبر کے 3,876.40 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر 7 نومبر کو 4,072.10 ڈالر ہو گیا۔
ایندھن کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی۔ خبر ڈاٹ پی کے کے مطابق 6 نومبر سے پیٹرول 9.41 روپے کم ہو کر 352.59 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5.56 روپے کم ہو کر 382.25 روپے ہو گیا۔ یہ لگاتار چوتھی روزانہ کمی تھی اور پیر سے اب تک پیٹرول 25.32 روپے سستا ہوا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل بدھ کو 8 فیصد سے زیادہ گر کر دو ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچا، پھر جمعہ کو 98.29 سے 99.90 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہا۔ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی کے خطرے اور سفارتی پیش رفت کی امیدوں کو تول رہے ہیں۔
بیرون ملک خبر ڈاٹ پی کے کے مطابق جمعرات کو ایس اینڈ پی 500 کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں ریکارڈ 2.9 ٹریلین ڈالر کی کمی ہوئی، اور جمعہ کو ایشیائی ٹیکنالوجی شیئرز میں بھی تیز گراوٹ آئی۔ وجہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد AI ڈیٹا سینٹرز پر سخت قواعد کا خدشہ بتایا گیا۔
کچھ سوال اب بھی کھلے ہیں۔ دستیاب مواد یہ نہیں بتاتا کہ ملکی صرافہ بازار اور عالمی منڈی میں سونے کی قیمت الگ سمتوں میں کیوں گئی، اور یہ اعداد صرف مخصوص دنوں کے ہیں، درمیانی دنوں کے نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
شیئرز کی قیمتیں سرمایہ کاروں اور اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم ہیں۔ ڈالر کا مستحکم ریٹ درآمد کنندگان اور درآمدی اشیا خریدنے والے گھرانوں کے لیے معنی رکھتا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کا اثر ٹرانسپورٹرز اور ایندھن خریدنے والے خاندانوں پر پڑتا ہے۔ سونے کے نرخ ان گھرانوں کے لیے اہم ہیں جو سونا خریدتے یا رکھتے ہیں۔ 26.86 ارب ڈالر کے ذخائر درآمدات کی ادائیگی کی ملکی صلاحیت کا ایک پیمانہ ہیں۔



