حکومت نے 300 ارب روپے کی ایکسپورٹ فنانس اسکیم ایس ایم ایز کیلئے مختص کر دی
حکومت نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت پوری 300 ارب روپے کی رقم اہل چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کیلئے مختص کر دی ہے۔ پاک ایگزم بینک نے شریک بینکوں کو نئی پالیسی پر عمل کی ہدایت کی ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- تقریباً 1.1 ارب ڈالر کے برابر پوری 300 ارب روپے کی رقم اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان کیلئے ہے۔
- اسکیم کے تحت صرف مقررہ ایس ایم ای معیار پر پورا اترنے والے کاروبار قرض لے سکیں گے۔
- پاک ایگزم بینک نے شریک بینکوں کو نئی پالیسی پر سختی سے عمل کی ہدایت کی ہے۔
منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت پوری 300 ارب روپے کی رقم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے مختص کر دی ہے۔ یہ رقم تقریباً 1.1 ارب ڈالر کے برابر ہے اور اسکیم پاک ایگزم بینک کے زیر انتظام ہے۔
منٹ مرر کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پالیسی ہدایت اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی قیادت میں کیا گیا۔ فنڈز صرف اہل ایس ایم ای برآمد کنندگان استعمال کر سکیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اسکیم کے تحت صرف وہی کاروبار قرض لے سکیں گے جو مقررہ ایس ایم ای معیار پر پورا اترتے ہوں۔ زرعی شعبے سے وابستہ اہل کاروبار بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور مختص رقم میں زرعی ایس ایم ایز بھی شامل ہیں۔
منٹ مرر نے بتایا کہ اس سے پہلے یہ فنانسنگ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں، زرعی ایس ایم ایز اور پہلی بار اسکیم استعمال کرنے والے قرض داروں میں تقسیم ہوتی تھی۔ وزارت خزانہ کے مطابق اب نئے قرض داروں کی کوئی علیحدہ کیٹیگری نہیں رہی اور انہیں بھی ایس ایم ای کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق پاک ایگزم بینک نے شریک کمرشل بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نظرثانی شدہ پالیسی پر سختی سے عمل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مختص فنڈز مؤثر طریقے سے استعمال ہوں۔
حکومت کا بیان کردہ مقصد چھوٹے کاروباروں کی برآمدات بڑھانا اور انہیں آسان قرضے فراہم کرنا ہے۔
منٹ مرر کے مطابق اعلان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے کاروباروں کو قرض ملنے کی توقع ہے اور ہر ایک کو کتنی رقم مل سکتی ہے۔
اسی ادارے نے یہ بھی بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں برآمدی سرچارج ختم کیا گیا، برآمدی آمدنی اور سپر ٹیکس پر ٹیکس کم کیا گیا اور برآمدی فنانسنگ رعایتی شرحوں پر جاری رکھی گئی۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے طویل مدتی فنانسنگ کے خواہش مند چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کیلئے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی۔ یہ ہدایت انہوں نے برآمدی ایس ایم ایز کی سہولتوں سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں دی تھی۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے برآمد کنندگان براہ راست متاثر ہوں گے، کیونکہ پوری 300 ارب روپے کی رقم اب انہی کیلئے مختص ہے۔ مقررہ ایس ایم ای معیار پر پورا اترنے والے کاروباروں کو شریک بینکوں سے برآمدی فنانس ملنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ حکومت کے مطابق مقصد چھوٹے کاروباروں کی برآمدات بڑھانا ہے، اس لیے ایسے اداروں کے ملازمین کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اہل زرعی ایس ایم ایز بھی اسکیم کے اہل رہیں گے۔



