ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

خیبرپختونخوا پولیس کو 12 اضلاع کے لیے 30 سے 40 ارب روپے درکار

آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق 12 اضلاع میں سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے پولیس کو 30 سے 40 ارب روپے چاہییں۔ فنڈز کے حصول کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔

CCTV cameras installed in Matunga (W) in Mumbai as part of the city-wide surveillance network.
CCTV cameras installed in Matunga (W) in Mumbai as part of the city-wide surveillance network. تصویر: Punit Rajpal / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • آئی جی ذوالفقار حمید کے مطابق 12 اضلاع کے لیے 30 سے 40 ارب روپے درکار ہیں۔
  • فنڈز کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔
  • جدید اسلحے، ڈرونز اور سیف سٹی منصوبوں پر توجہ ہے۔
  • پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری تیار ہے۔
30 سے 40 ارب روپےمطلوبہ فنڈز
12متعلقہ اضلاع
ایک سال کے اندرسیف سٹی کا ہدف

انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ صوبے کے 12 اضلاع میں سکیورٹی مضبوط بنانے اور پولیس کا ڈھانچہ بہتر کرنے کے لیے پولیس کو 30 سے 40 ارب روپے کی ضرورت ہے۔ بعض اداروں نے یہ رقم 40 ارب روپے بتائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطلوبہ فنڈز حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق پولیس نے اسلام آباد سے 40 ارب روپے مانگے ہیں اور آئی جی نے یہ بات اتوار کو کہی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کی۔

منٹ مرر کے مطابق 12 اضلاع میں چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ بنیادی توجہ جدید اسلحے، ڈرونز اور دیگر ضروری سازوسامان کی فراہمی پر ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق محکمے کو ڈرونز، اینٹی ڈرون نظام، جدید بلٹ پروف گاڑیاں اور بکتر بند گاڑیاں دی جائیں گی۔

سیف سٹی منصوبے بھی ترجیح ہیں۔ حکام تمام 12 اضلاع میں نگرانی مضبوط کرنے کے لیے انہیں مکمل کرنا چاہتے ہیں اور پولیس کا ہدف ایک سال میں کام ختم کرنا ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق آئی جی نے کہا: "ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں کام تیزی سے جاری ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔

آئی جی نے ضم شدہ اضلاع کا بھی ذکر کیا جہاں پہلے مناسب پولیس ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ وہاں ضروری پولیس سہولتیں قائم کی جائیں گی اور موجودہ نظام مضبوط بنایا جائے گا۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق صوبے کے پانچ شمالی اضلاع میں تھانے اور چوکیاں بنائی جا رہی ہیں۔

کمزور ڈھانچے والے علاقوں کو بہتر بنایا جائے گا، پولیس کی کمی پوری کی جائے گی اور افسران و اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔

منٹ مرر نے یہ بھی بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری تیار ہو چکی ہے۔ محکمہ خزانہ تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات دے گا، اس کے بعد سمری گورنر کو بھیجی جائے گی۔

یہ کیوں اہم ہے

خیبرپختونخوا میں پولیس کے فنڈز عوامی تحفظ اور سرکاری اخراجات پر اثر انداز ہوتے ہیں، خصوصاً ضم شدہ اضلاع میں جہاں پولیس کا ڈھانچہ کمزور تھا۔

غلطی کی نشاندہی کریں

خیبرپختونخواپولیسسیف سٹی

اس خبر پر مزید