ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان6 ذرائع سے تصدیق شدہ

خیبر پختونخوا پولیس کو 10 ایمبولینسز اور 8 بکتر بند گاڑیاں مل گئیں

خیبر پختونخوا پولیس کو 10 جدید ایمبولینسز اور 8 بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) فراہم کی گئی ہیں۔ آئی جی ذوالفقار حمید نے پیر کو پشاور میں تقریب کے دوران چابیاں حوالے کیں۔

Photo: ambulance, the medicine, hospital, health care
Photo: ambulance, the medicine, hospital, health care تصویر: AKuptsova / Pixabay
اہم نکات
  • پولیس کو 10 ایمبولینسز اور 8 اے پی سیز دی گئیں
  • 6 ضرب حیدر اور 2 ڈریگون کلاس اے پی سیز شامل ہیں
  • گاڑیاں 11 اضلاع کے پولیس افسران کو ملیں
  • آئی جی ذوالفقار حمید نے پشاور میں چابیاں دیں
10ایمبولینسز
8اے پی سیز
6ضرب حیدر اے پی سیز
2ڈریگون کلاس اے پی سیز

خیبر پختونخوا پولیس کو انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران اہلکاروں کے تحفظ اور طبی امداد بہتر بنانے کے لیے 10 جدید ایمبولینسز اور 8 بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) فراہم کی گئی ہیں۔ 24 نیوز ایچ ڈی نے پیر کو یہ خبر دی۔

انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سینٹرل پولیس آفس پشاور میں ہونے والی تقریب میں مختلف ریجنز اور اضلاع کے سینئر افسران کو گاڑیوں کی چابیاں دیں۔ تقریب میں تمام ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور دیگر اعلیٰ افسران شریک تھے۔

نئی گاڑیوں میں 6 ضرب حیدر اور 2 ڈریگون کلاس اے پی سیز شامل ہیں۔ یہ گاڑیاں اور ایمبولینسز پشاور، چارسدہ، دیر لوئر، دیر اپر، کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ایبٹ آباد اور شانگلہ کے پولیس افسران کو دی گئیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایمبولینسز میں فیلڈ میں درکار طبی سہولیات موجود ہیں۔ ان کا مقصد آپریشنز یا دہشت گردوں کے حملوں میں زخمی اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد دے کر جلد اسپتال پہنچانا ہے۔

آئی جی نے ایمبولینسز اور اے پی سیز کا معائنہ کیا اور ان کی خصوصیات اور کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی۔ ذوالفقار حمید نے کہا کہ جدید اے پی سیز ہنگامی حالات اور آپریشنز کے دوران اہلکاروں کی محفوظ نقل و حرکت میں مدد دیں گی اور انہیں دہشت گردوں کے حملوں سے بچائیں گی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی جی نے کہا کہ تیز رفتار ایمبولینسز زخمی اہلکاروں کو اسپتال پہنچنے تک قیمتی وقت فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ فورس کو سہولیات سے لیس کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں خصوصی سمریز صوبائی حکومت کو بھیجی گئی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر کام کر رہی ہے اور آئی جی سے سپاہی تک کے اہلکار جانیں قربان کر چکے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

خیبر پختونخوا میں، جہاں عسکریت پسندوں کے حملے ہوتے رہتے ہیں، پولیس کو حفاظتی گاڑیاں اور طبی نقل و حمل مل رہی ہے، جو صوبے اور ملک کے شہریوں کے لیے اہم ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

خیبر پختونخواپولیسپشاور

اس خبر پر مزید