ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان10 ذرائع سے تصدیق شدہ

تہران مذاکرات میں غیرحاضری پر خواجہ آصف کا فضل الرحمٰن کو جواب

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا، اس لیے ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ وہ ایک دن قبل جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دے رہے تھے۔

The Hemicycle of the European Parliament in Strasbourg during a plenary session in 2014.
The Hemicycle of the European Parliament in Strasbourg during a plenary session in 2014. تصویر: Diliff / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • خواجہ آصف نے کہا تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا۔
  • ان کے مطابق تہران کی سرگرمیاں وزارت دفاع کے دائرہ اختیار سے باہر تھیں۔
  • جے یو آئی ف کے ارکان نے احتجاج کیا اور تقریر میں بار بار مداخلت کی۔
10 سالکشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ

وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے تبصروں کا جواب دیا، جنہوں نے تہران مذاکرات میں ان کی غیرحاضری پر تنقید کی تھی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق فضل الرحمٰن نے ایک دن پہلے مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق تہران کی بات چیت میں حکومتی کردار پر سوال اٹھایا تھا، جبکہ وزیراعظم اور وزیر دفاع پاکستان ہی میں رہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ڈیلی جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان سے متعلق کوئی دفاعی معاملہ زیر غور نہیں تھا اور تہران کی سرگرمیاں وزارت دفاع کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حالیہ دونوں دفاعی معاہدوں میں بطور وزیر دفاع شریک تھے، مگر تہران کی بات چیت میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف، نے مصالحت اور علاقائی امن کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ ڈیلی جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل صلح کے پیامبر بن کر تہران گئے اور جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کا تنازع بگڑ سکتا تھا، پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے، اور آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے فضل الرحمٰن کا ان کی غیرحاضری پر تشویش ظاہر کرنے کا شکریہ ادا کیا، مگر تنقید کو بے محل قرار دیا۔ ان کے بقول فضل الرحمٰن اپنی ہی ماضی کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کی تاریخ نظرانداز کر رہے ہیں؛ وہ قائد حزب اختلاف رہے اور سابقہ بندوبستوں کے تحت بننے والی حکومتوں میں شریک ہوئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں رہنما پہلے اتحادی رہے اور مل کر تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی۔

خواجہ آصف نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر فضل الرحمٰن کی دس سالہ کارکردگی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ انہوں نے بغیر نتائج کے سرکاری مراعات حاصل کیں۔ انہوں نے لیگل فریم ورک آرڈر کے دور میں ان کے سیاسی کردار اور پاکستان کی آزادی کے بارے میں جے یو آئی کے تاریخی مؤقف پر بھی سوال اٹھایا۔ ڈیلی جنگ کے مطابق انہوں نے پوچھا کہ فضل الرحمٰن افغانستان کیوں گئے اور وہاں کی دعوت کیوں قبول کی۔

خواجہ آصف نے کہا: "I am the only politician who has apologised for his past"۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مذہب اور سیاست کو آمدن کا ذریعہ بنایا اور پی ڈی ایم حکومت کے دوران کیا ہوا، وہ سب بتا سکتے ہیں۔ ڈیلی جنگ کے مطابق انہوں نے کہا: "سیاست اور مذہب کو صرف انہوں نے کمائی کا ذریعہ بنایا" اور "مجھے ماضی کھلوانے پر مجبور نہ کریں"۔

جے یو آئی ف کے ارکان نے احتجاج کیا اور تقریر میں بار بار مداخلت کی۔ خواجہ آصف نے اپوزیشن ارکان کو خبردار کیا کہ انہیں مزید انکشافات پر مجبور نہ کیا جائے۔ ڈیلی جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ انہوں نے معاملات بگڑنے سے روکنے کی کوشش کی اور دفاع کے معاملے پر ملک کے متحد ہونے پر زور دیا۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ تبادلہ ایران کے ساتھ پاکستان کے معاملات اور علاقائی سفارت کاری میں حکومتی کردار پر جاری سیاسی بحث کا حصہ ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

خواجہ آصففضل الرحمٰنقومی اسمبلی

اس خبر پر مزید