اسرائیل میں 7 اکتوبر کے بعد پہلے قومی انتخابات کے لیے ووٹنگ
اسرائیلی شہری منگل 27 اکتوبر کو 7 اکتوبر کے حملوں اور غزہ جنگ کے بعد پہلے قومی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ پولز میں وزیراعظم نیتن یاہو کا اتحاد مرکزی اپوزیشن بلاک کے تقریباً برابر ہے۔

- اسرائیل میں منگل 27 اکتوبر کو قومی انتخابات ہو رہے ہیں، جو 7 اکتوبر اور غزہ جنگ کے بعد پہلے ہیں۔
- انڈیپنڈنٹ کے مطابق جمعے کے پولز میں حکمران اتحاد اور گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک تقریباً برابر ہیں۔
- فرانس 24 کے مطابق بیرونِ ملک سے ووٹ ڈالنے کی سہولت نہیں، اس لیے ہزاروں تارکینِ وطن وطن لوٹ رہے ہیں۔
- بی بی سی کے مطابق یہ انتخاب امریکی وسط مدتی انتخابات اور ایران جنگ سے جڑا ہوا ہے۔
اسرائیلی شہری منگل 27 اکتوبر کو نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ یہ 7 اکتوبر کے حملوں اور اس کے بعد غزہ جنگ کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں۔ انڈیپنڈنٹ کے مطابق ووٹرز کو پہلی بار اس سلامتی کی ناکامی پر اپنا فیصلہ دینے کا موقع ملا ہے جسے وہ کئی دہائیوں کی بدترین ناکامی قرار دیتا ہے۔
انڈیپنڈنٹ کے مطابق جمعے کو سامنے آنے والے پولز میں حکمران انتہائی دائیں بازو کا اتحاد سابق فوجی سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کے گرد قائم مرکزی اپوزیشن بلاک کے تقریباً برابر ہے۔ تقریباً پانچ لاکھ نئے ووٹر پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔ اخبار کے مطابق تقریباً تمام یہودی قیادت والی جماعتیں اب دو ریاستی حل کی مخالف ہیں، جو فلسطینیوں کے ساتھ سفارت کاری کی طویل بنیاد رہا ہے۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی عمر 77 سال ہے۔ ووٹنگ سے ایک روز پہلے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا ذکر کیا اور عندیہ دیا کہ ٹرمپ ایران کے خلاف کارروائی پر آمادہ ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب نیتن یاہو اقتدار میں رہیں۔ انڈیپنڈنٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
بی بی سی کے مطابق اسرائیل کے ایک ہفتے بعد امریکی ووٹر نئی کانگریس چنیں گے اور دونوں انتخابات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ لابی گروپ ریپبلکنز اوورسیز اسرائیل کے اندازے کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ امریکی پاسپورٹ رکھنے والے اسرائیلی دونوں انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ گروپ کے چیئرمین مارک زیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے اسرائیل سے تقریباً 10 ہزار غیر حاضر ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق نیتن یاہو نے مہم کے دوران ایران پر نئے حملے کے امکان کا ذکر کیا اور ثبوت دیے بغیر ایران کے جوہری خطرے کے بارے میں دعوے کیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو ایران میں کام جلد ختم کرنا چاہیے، تاہم بی بی سی کے مطابق متضاد اطلاعات بھی ہیں کہ انہوں نے ووٹنگ سے پہلے نیتن یاہو کو روکا۔ آئزن کوٹ نے کسی قومی حکومت میں شمولیت کو رد کیا ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے جنگ بڑھانے سے خبردار کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فنانشل ٹائمز میں لکھا کہ نئے حملے شہریوں کی جانوں اور عالمی معیشت کو شدید خطرے میں ڈالیں گے۔ بی بی سی یہ بھی بتاتا ہے کہ اسرائیل میں مہنگائی، کم اجرتیں اور بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات بھی انتخابی موضوع ہیں۔
فرانس 24 کے مطابق اسرائیلی بیرونِ ملک سے ووٹ نہیں ڈال سکتے، اس لیے ہزاروں تارکینِ وطن کے وطن آنے کی توقع ہے۔ فلائی اینڈ ووٹ نامی مہم انہیں سفر کے انتظام میں مدد دیتی ہے، جبکہ اسے محدود کرنے کے لیے نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کی درخواست ناکام رہی۔ سخت مقابلے کی پیش گوئی کے باعث ہر ووٹ اہم ہو سکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
اسرائیل کی حکومت غزہ اور ایران کے حوالے سے کشیدگی پر اثر انداز ہوتی ہے جس پر پاکستان گہری نظر رکھتا ہے، اور بی بی سی کے مطابق نتیجہ توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت سے بھی جڑا ہے۔



