ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا11 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسرائیل میں سات اکتوبر 2023 کے بعد پہلے انتخابات آج

اسرائیل میں منگل کو سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پہلے انتخابات ہو رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کا سامنا ہے۔

Photo: election, election day, vote, envelop
Photo: election, election day, vote, envelop تصویر: OrnaW / Pixabay
اہم نکات
  • سات اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کے پہلے انتخابات منگل کو ہیں
  • آخری سرویز میں کوئی بلاک 61 نشستوں کی اکثریت کی راہ پر نہیں تھا
  • تقریباً 73 لاکھ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں
  • انتخاب کے بعد اتحاد سازی مشکل ہو سکتی ہے
120 میں سے 61اکثریت کے لیے نشستیں
تقریباً 73 لاکھاہل ووٹر
3.25 فیصدانتخابی حد
اپوزیشن 52، نیتن یاہو بلاک 50کان کا سروے

اسرائیل میں منگل کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ حماس کی قیادت میں سات اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ کی جنگ کے بعد پہلا الیکشن ہے۔ اسے ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

مقابلہ دو بڑے بلاکس میں ہے۔ ایک وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکود کی قیادت میں حکمران اتحاد ہے، جس میں یونائیٹڈ تورا جوڈازم، شاس، عوتزما یہودی اور مذہبی صیہونیت-زہوت جیسی انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ دوسری طرف چار یہودی قیادت والی جماعتوں کا اپوزیشن اتحاد ہے: گادی آئزنکوٹ کی یاشر، یائر گولان کی ڈیموکریٹس، اویگدور لیبرمین کی یسرائیل بیتینو اور نفتالی بینیٹ کا ٹوگیدر اتحاد، جس میں یائر لپید بھی شامل ہیں۔

جمعے کو نئے سرویز پر پابندی لگنے سے پہلے شائع ہونے والے جائزوں کے مطابق کوئی بھی بلاک 120 نشستوں کی کنیسٹ میں 61 نشستوں کی اکثریت کی راہ پر نہیں تھا۔ الجزیرہ کے مطابق سرکاری نشریاتی ادارے کان کے سروے میں اپوزیشن اتحاد کو 52 اور نیتن یاہو کے بلاک کو 50 نشستیں ملنے کا اندازہ تھا۔ باقی نشستیں دیگر جماعتوں کو ملیں گی، جن میں عرب اکثریتی جماعتیں رعم اور جوائنٹ لسٹ شامل ہیں۔ دونوں بڑے بلاک فی الحال ان کے ساتھ اتحاد کو مؤثر طور پر رد کر چکے ہیں۔ پارلیمان میں داخلے کے لیے 3.25 فیصد ووٹ درکار ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق اتحاد سازی ناکام رہی تو اسرائیل میں اقلیتی حکومت بن سکتی ہے یا دوبارہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق پانچ لاکھ ووٹر پہلی بار ووٹ ڈال رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ تقریباً 70 ہزار اسرائیلی صرف ووٹ دینے کے لیے بیرونِ ملک سے آ رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق نیتن یاہو کی مہم کا مرکز سلامتی ہے اور نعرہ ہے: ’کوئی ہتھیار نہیں ڈالے گا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں سے ملک کو لاحق خطرات کم ہوئے ہیں۔ سابق چیف آف سٹاف آئزنکوٹ، جن کا بیٹا غزہ جنگ میں مارا گیا، کہتے ہیں کہ انتخاب سلامتی، معیشت، تعلیم اور اسرائیلی ریاست کی شناخت کے بارے میں ہے۔ انھوں نے سات اکتوبر کے حملوں پر ریاستی تحقیقاتی کمیشن اور انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو فوجی خدمت میں شامل کرنے کے عدالتی فیصلوں پر عمل کا وعدہ کیا ہے۔

ملک کے اندر حملوں سے پہلے سکیورٹی ناکامیوں پر جواب دہی، انتہائی قدامت پسندوں کی فوجی استثنا پر ناراضی اور نیتن یاہو کی عدالتی تبدیلیوں کی کوششوں پر تشویش پائی جاتی ہے، جنھیں ناقدین جمہوری اداروں کے لیے نقصان دہ کہتے ہیں۔ نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ ان کے خلاف جانبدار ہو گی۔

نیتن یاہو مجموعی طور پر 19 برس سے اسرائیل کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ 2019 سے بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت نے مبینہ جنگی جرائم پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ تقریباً 73 لاکھ شہری ووٹ کے اہل ہیں، جن میں تقریباً 12 لاکھ فلسطینی نژاد اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی عالمی ساکھ کمزور ہوئی ہے، اور 24 ستمبر کو نیتن یاہو کے اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب پر درجنوں سفیر اٹھ کر چلے گئے تھے۔

یہ کیوں اہم ہے

نتیجہ غزہ اور خطے کے ان تنازعات پر اثر ڈال سکتا ہے جنھیں پاکستان میں بہت توجہ سے دیکھا جاتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسرائیلنیتن یاہوانتخابات

اس خبر پر مزید