ایران سے ایل پی جی سپلائی بحال، پاکستان میں قیمتیں کم ہونے لگیں
ایران سے ایل پی جی ٹینکروں کی آمد دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور پورٹ قاسم پر دو جہاز بھی پہنچے ہیں۔ بعض مارکیٹوں میں قیمت 550 روپے فی کلو کے قریب سے کم ہو کر 500 سے 530 روپے ہو گئی ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- گبد اور تفتان کے راستے ایران سے ایل پی جی ٹینکروں کی سپلائی بحال
- ایل پی جی مارکیٹ نمائندوں کے مطابق بعض مارکیٹوں میں قیمت 550 سے کم ہو کر 500 تا 530 روپے فی کلو
- مارکیٹرز کو 48 گھنٹوں میں کراچی میں مزید کمی کی توقع ہے، تاہم یہ صرف اندازہ ہے
- گاڑیوں کی کمی ترسیل میں رکاوٹ ہے
ایران سے پاکستان ایران سرحد کے راستے مائع پیٹرولیم گیس کی سپلائی بحال ہو گئی ہے اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں قلت کے بعد قیمتوں میں کمی شروع ہو گئی ہے۔ یہ بات 24 نیوز، جیو اور منٹ مرر کی رپورٹس میں بتائی گئی۔
ایل پی جی مارکیٹ کے نمائندوں کے مطابق جو قیمت بڑھ کر تقریباً 550 روپے فی کلو ہو گئی تھی، وہ بعض مارکیٹوں میں اب 500 سے 530 روپے کے درمیان ہے۔ ایل پی جی مارکیٹرز کو توقع ہے کہ کراچی میں قیمت 48 گھنٹوں میں 500 روپے فی کلو سے نیچے آ جائے گی۔ ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر نے اندازہ لگایا کہ کراچی میں عمومی قیمت تقریباً 480 روپے فی کلو تک آ سکتی ہے۔ منٹ مرر کے مطابق یہ مارکیٹ کا اندازہ ہے، قیمت میں کمی کی ضمانت نہیں، اور حتمی نرخ سپلائی کی مقدار، ٹرانسپورٹ کی دستیابی اور ڈسٹری بیوٹرز کے اسٹاک پورے کرنے کی رفتار پر منحصر ہوگا۔
ایل پی جی درآمد کنندہ شوکت عیسیٰ زئی نے جیو کو بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں تفتان سرحد سے تقریباً 400 اور گبد سرحد سے 1,300 کنٹینر پاکستان میں داخل ہوئے۔ ان کے مطابق سپلائی بحال ہونے کا قیمتوں پر اثر پڑا ہے اور اگر سپلائی بلا تعطل جاری رہی تو مزید کمی ہو سکتی ہے۔
24 نیوز کے مطابق اتوار کو گبد رمدان سرحد پر 200 سے زائد ٹینکروں کی کلیئرنس متوقع تھی، جس سے مقامی مارکیٹ میں تقریباً 3,000 سے 4,000 ٹن ایل پی جی آ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں 50 سے 70 روپے فی کلو کمی ہو سکتی ہے۔
سمندری راستے سے بھی سپلائی آئی ہے۔ بندرگاہ حکام کے حوالے سے 24 نیوز نے بتایا کہ پورٹ قاسم پر 4,520 ٹن ایل پی جی لانے والا ایک جہاز لنگر انداز ہوا، جبکہ 3,083 ٹن لانے والا دوسرا جہاز مال اتار کر روانہ ہو چکا ہے۔
صنعت کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ صرف یہ نئی کھیپیں ملکی ضرورت پوری نہیں کر سکتیں۔ منٹ مرر کے مطابق بندرگاہ پر آنے والی مقدار پاکستان کی دو دن کی اوسط کھپت سے کم ہے، سردیوں کی اضافی طلب کو شامل کیے بغیر بھی۔ علی حیدر نے کہا کہ گاڑیوں کی کمی کے باعث ایل پی جی کو مارکیٹوں تک پہنچانے میں مشکل ہے، اور سپلائی ڈسٹری بیوٹرز اور صارفین تک پہنچنے کے لیے کافی ٹرانسپورٹ ضروری ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سرحد بند ہونے کی اطلاعات پر ایکس پر بیان میں کہا کہ ایران کی تمام ہمسایہ ممالک سے سرحدیں کھلی ہیں اور پاکستان کو برآمدات پر کوئی پابندی نہیں۔ سینیٹر محمد عبدالقادر نے گبد اور رمدان گزرگاہوں کے کھلنے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ٹینکروں کی جلد کلیئرنس اور ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کے لیے مؤثر نگرانی پر زور دیا، اور کہا کہ سردی آنے پر بلوچستان کے سرد اور دور دراز علاقوں کے لیے ایندھن کی دستیابی اہم ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
جہاں قدرتی گیس نہیں یا اس کا دباؤ کم ہے وہاں ایل پی جی کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس لیے قیمتوں کا اثر گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے، خاص طور پر کراچی اور سردیوں سے پہلے بلوچستان کے سرد اور دور دراز علاقوں میں۔



