ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایران سے ایل پی جی سپلائی بحال، پاکستان میں قیمتیں کم ہونے لگیں

ایران سے ایل پی جی ٹینکروں کی آمد دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور پورٹ قاسم پر دو جہاز بھی پہنچے ہیں۔ بعض مارکیٹوں میں قیمت 550 روپے فی کلو کے قریب سے کم ہو کر 500 سے 530 روپے ہو گئی ہے۔

Photo: gas carrier, lpg vessel, ship, tanker
Photo: gas carrier, lpg vessel, ship, tanker تصویر: Capt-M / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • گبد اور تفتان کے راستے ایران سے ایل پی جی ٹینکروں کی سپلائی بحال
  • ایل پی جی مارکیٹ نمائندوں کے مطابق بعض مارکیٹوں میں قیمت 550 سے کم ہو کر 500 تا 530 روپے فی کلو
  • مارکیٹرز کو 48 گھنٹوں میں کراچی میں مزید کمی کی توقع ہے، تاہم یہ صرف اندازہ ہے
  • گاڑیوں کی کمی ترسیل میں رکاوٹ ہے
تقریباً 550 روپے فی کلوسابقہ قیمت
500 تا 530 روپے فی کلوبعض مارکیٹوں میں موجودہ قیمت
تفتان سے 400، گبد سے 1,300دو دن میں داخل ہونے والے کنٹینر
4,520 اور 3,083 ٹنپورٹ قاسم پر کارگو

ایران سے پاکستان ایران سرحد کے راستے مائع پیٹرولیم گیس کی سپلائی بحال ہو گئی ہے اور کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں قلت کے بعد قیمتوں میں کمی شروع ہو گئی ہے۔ یہ بات 24 نیوز، جیو اور منٹ مرر کی رپورٹس میں بتائی گئی۔

ایل پی جی مارکیٹ کے نمائندوں کے مطابق جو قیمت بڑھ کر تقریباً 550 روپے فی کلو ہو گئی تھی، وہ بعض مارکیٹوں میں اب 500 سے 530 روپے کے درمیان ہے۔ ایل پی جی مارکیٹرز کو توقع ہے کہ کراچی میں قیمت 48 گھنٹوں میں 500 روپے فی کلو سے نیچے آ جائے گی۔ ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر نے اندازہ لگایا کہ کراچی میں عمومی قیمت تقریباً 480 روپے فی کلو تک آ سکتی ہے۔ منٹ مرر کے مطابق یہ مارکیٹ کا اندازہ ہے، قیمت میں کمی کی ضمانت نہیں، اور حتمی نرخ سپلائی کی مقدار، ٹرانسپورٹ کی دستیابی اور ڈسٹری بیوٹرز کے اسٹاک پورے کرنے کی رفتار پر منحصر ہوگا۔

ایل پی جی درآمد کنندہ شوکت عیسیٰ زئی نے جیو کو بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں تفتان سرحد سے تقریباً 400 اور گبد سرحد سے 1,300 کنٹینر پاکستان میں داخل ہوئے۔ ان کے مطابق سپلائی بحال ہونے کا قیمتوں پر اثر پڑا ہے اور اگر سپلائی بلا تعطل جاری رہی تو مزید کمی ہو سکتی ہے۔

24 نیوز کے مطابق اتوار کو گبد رمدان سرحد پر 200 سے زائد ٹینکروں کی کلیئرنس متوقع تھی، جس سے مقامی مارکیٹ میں تقریباً 3,000 سے 4,000 ٹن ایل پی جی آ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں 50 سے 70 روپے فی کلو کمی ہو سکتی ہے۔

سمندری راستے سے بھی سپلائی آئی ہے۔ بندرگاہ حکام کے حوالے سے 24 نیوز نے بتایا کہ پورٹ قاسم پر 4,520 ٹن ایل پی جی لانے والا ایک جہاز لنگر انداز ہوا، جبکہ 3,083 ٹن لانے والا دوسرا جہاز مال اتار کر روانہ ہو چکا ہے۔

صنعت کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ صرف یہ نئی کھیپیں ملکی ضرورت پوری نہیں کر سکتیں۔ منٹ مرر کے مطابق بندرگاہ پر آنے والی مقدار پاکستان کی دو دن کی اوسط کھپت سے کم ہے، سردیوں کی اضافی طلب کو شامل کیے بغیر بھی۔ علی حیدر نے کہا کہ گاڑیوں کی کمی کے باعث ایل پی جی کو مارکیٹوں تک پہنچانے میں مشکل ہے، اور سپلائی ڈسٹری بیوٹرز اور صارفین تک پہنچنے کے لیے کافی ٹرانسپورٹ ضروری ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سرحد بند ہونے کی اطلاعات پر ایکس پر بیان میں کہا کہ ایران کی تمام ہمسایہ ممالک سے سرحدیں کھلی ہیں اور پاکستان کو برآمدات پر کوئی پابندی نہیں۔ سینیٹر محمد عبدالقادر نے گبد اور رمدان گزرگاہوں کے کھلنے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ٹینکروں کی جلد کلیئرنس اور ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری روکنے کے لیے مؤثر نگرانی پر زور دیا، اور کہا کہ سردی آنے پر بلوچستان کے سرد اور دور دراز علاقوں کے لیے ایندھن کی دستیابی اہم ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

جہاں قدرتی گیس نہیں یا اس کا دباؤ کم ہے وہاں ایل پی جی کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس لیے قیمتوں کا اثر گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے، خاص طور پر کراچی اور سردیوں سے پہلے بلوچستان کے سرد اور دور دراز علاقوں میں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایل پی جیپورٹ قاسمپاک ایران سرحد

اس خبر پر مزید