عدن پر حوثی میزائل حملے، شہری دوبارہ مکمل جنگ کے خدشے میں
اس ماہ عدن پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ شہری خوراک جمع کر رہے ہیں اور نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

- الجزیرہ کے مطابق حوثیوں نے عدن کے ہوائی اڈے، بندرگاہ، فوجی کیمپوں اور صدارتی محل پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
- عرب نیوز کے مطابق یمنی افواج نے کہا کہ حوثیوں نے عدن ایئرپورٹ اور معاشق محل کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
- شہری خوراک جمع کر رہے ہیں اور سکیورٹی بگڑنے پر شہر چھوڑنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق جنوبی یمن کے شہر عدن پر حوثیوں کے میزائل گرے ہیں اور شہریوں کو مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ حوثیوں نے شہر میں کئی مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ، فوجی کیمپ، بندرگاہ اور صدارتی محل شامل ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یمنی مسلح افواج نے جمعے کو کہا کہ حوثیوں نے عدن ایئرپورٹ اور معاشق محل کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ فوجی ترجمان نے گروہ پر قومی انفراسٹرکچر اور وسائل کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ان کے بقول ہوائی اڈوں پر حملے حوثیوں کے ناکہ بندی ختم کرنے کے دعوے اور یمنی آبادی کے خلاف ان کے اقدامات کے درمیان تضاد ظاہر کرتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اس ماہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں سے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی سفر بار بار متاثر ہوا اور ایئرلائنوں کو پروازیں منسوخ کرنا، تاخیر کا شکار کرنا یا دوسری جگہ موڑنا پڑیں۔ عدن اب تک نسبتاً پرسکون تھا اور تنازع سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کی پناہ گاہ بنا ہوا تھا۔
شہری تیاری کر رہے ہیں۔ محمد عبدالملک نے خوراک ذخیرہ کر لی ہے اور لمبے سفر کے لیے گاڑی تیار رکھی ہے۔ سکیورٹی بگڑی تو وہ اہل خانہ کے ساتھ شبوہ یا حضرموت جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا: "Prices in Taiz have already doubled, and the same could easily happen in Aden. If the [Aden] port were to be struck, prices would skyrocket," یعنی تعز میں قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں اور عدن میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
ہوائی اڈے کے قریب خور مکسر کے رہائشی احمد عوض نے بتایا کہ کچھ خاندانوں نے کمزور رشتہ داروں کو لحج اور ابین صوبوں یا عدن کے دوسرے علاقوں میں بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا: "The [Aden] airport, which serves the civilian population, as well as other civilian infrastructure and residential areas, must not be targeted."
چار سال کے نسبتی سکون کے بعد یمن کی جنگ حالیہ مہینوں میں پھر بھڑک اٹھی۔ ستمبر کے آغاز میں حوثیوں نے مغربی یمن میں این آر ایف کے زیر انتظام علاقوں پر قبضے کے لیے بڑا حملہ کیا۔ ایک ہفتے میں انہوں نے حدیدہ اور تعز کے اضلاع، بشمول بندرگاہی شہر مخا اور باب المندب آبنائے، پر قبضہ کر لیا۔
اکتوبر کے آغاز میں حکومت کے جوابی حملے سے بحیرہ احمر کے ساحل پر محدود پیش رفت ہوئی۔ حوثیوں نے تعز کو عدن سے ملانے والی اہم سڑک پر قبضہ کر کے تعز کا محاصرہ مزید سخت کر دیا۔
عدن اور حضرموت کی یونیورسٹیوں میں صحافت کے پروفیسر ادیب الشطری نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے عدن کو مناسب فضائی دفاع کے بغیر کیوں چھوڑا۔ ان کا کہنا تھا: "Aden is currently the capital, housing both major and minor state institutions. Therefore, the legitimate government must protect it."
یہ کیوں اہم ہے
یمن میں نئی لڑائی خلیجی خطے کو متاثر کرتی ہے جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی کارکن رہتے ہیں۔



