ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

دفتر خارجہ: افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پناہ دے رہی ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کو پناہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا کابل کی ذمہ داری ہے۔

Photo: moped, motorcycle, handlebar, nature
Photo: moped, motorcycle, handlebar, nature تصویر: Charly_7777 / Pixabay
اہم نکات
  • دفتر خارجہ کا الزام: طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کو پناہ دے رہی ہے
  • انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات مسترد
  • پاکستان کے مطابق کارروائیاں حق دفاع کے تحت، آخری چارہ کار کے طور پر اور صرف دہشتگردوں و لاجسٹک مراکز پر کی گئیں
  • عالمی برادری سے طالبان حکومت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کا پابند بنانے کا مطالبہ
26 اکتوبر 2026بیان کی تاریخ

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان گروہوں کو پناہ دے رہی ہے جنہیں پاکستان فتنۃ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کہتا ہے۔ یہ بیان 26 اکتوبر 2026 کو رپورٹ ہوا۔

بیان میں پاکستان کی انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق گمراہ کن بیانیے افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کا خطرہ نہیں چھپا سکتے۔

ترجمان نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس کا حوالہ بھی دیا، جن کے مطابق طالبان حکومت کے دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دینے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق افغان سرزمین سے منصوبہ بندی اور مالی معاونت سے ہونے والے دہشتگرد حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی کارروائیاں حق دفاع کے تحت اور آخری چارہ کار کے طور پر کی گئیں۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں کارروائیاں صرف دہشتگردوں اور ان کے لاجسٹک مراکز پر کی گئیں، خطرے کے تناسب سے جواب دیا گیا اور احتیاط و امتیاز کے اصولوں کی پابندی کی گئی۔

ترجمان نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند بنائے۔

پاکستان نے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیان میں شامل دعوے پاکستان کا سرکاری مؤقف ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان میں عسکریت پسند حملے شہریوں کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، اور حکومت انہیں کھلے طور پر افغان طالبان کے زیر انتظام علاقے سے جوڑ رہی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پاکستانافغانستاندہشتگردی

اس خبر پر مزید