ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا5 ذرائع سے تصدیق شدہ

مصری پارلیمنٹ کی سعودی عرب کے لیے فوجی معاونت کی منظوری

مصر کے ایوانِ نمائندگان نے پیر کو صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کی حمایت کا اختیار دے دیا۔ قاہرہ کے مطابق کوئی بھی کارروائی سعودی علاقے اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی۔

Around 30 Egyptian photographers assembled today in front of Press Syndicate in downtown Cairo, to protest police assaults against them while covering demos, a…
Around 30 Egyptian photographers assembled today in front of Press Syndicate in downtown Cairo, to protest police assaults against them while covering demos, a… تصویر: Hossam el-Hamalawy / Wikimedia Commons, CC BY-SA 2.0
اہم نکات
  • مصری پارلیمنٹ نے صدر السیسی کو سعودی عرب کی معاونت کے لیے ضروری اقدامات کا اختیار دیا۔
  • مصر کے مطابق کارروائی سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی، یمن پر حملے نہیں ہوں گے۔
  • یہ ووٹ ریاض کے ہوائی اڈے اور آرامکو کی تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد سامنے آیا۔
دو تہائی ارکانبیرونِ ملک جنگی تعیناتی کے لیے درکار منظوری
2015یمن میں مصر کی گزشتہ شمولیت

مصر کے ایوانِ نمائندگان نے پیر کو ووٹنگ کے ذریعے صدر عبدالفتاح السیسی کو سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کا اختیار دے دیا۔ یہ اقدام ایران سے وابستہ یمنی حوثیوں کے حملوں میں شدت کے دوران سامنے آیا۔ الجزیرہ کے مطابق اجلاس کی صدارت اسپیکر ہشام بدوی نے کی۔

سرکاری اخبار الاہرام کے مطابق ایوان نے صدر کو مملکتِ سعودی عرب کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار دینے کی منظوری دی۔ عرب نیوز کے مطابق یہ اقدام السیسی کی درخواست پر کیا گیا۔ رائٹرز کو دستیاب پارلیمانی بیان میں کہا گیا کہ ریاض کی درخواست کی صورت میں سعودی عرب کے اپنے دفاع میں معاونت کی جائے گی۔

یہ فیصلہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد آیا ہے، جن سے پروازیں اور تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں۔ صنعا پر قابض حوثی سعودی قیادت والے اتحاد سے لڑ رہے ہیں جو یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں لڑائی تیز ہوئی ہے اور یمن کا انسانی بحران مزید گہرا ہوا ہے۔

السیسی نے بدھ کو کہا تھا کہ مصر کی کوئی بھی فوجی کارروائی سعودی سرزمین اور سرحدوں کے تحفظ تک محدود ہوگی، یمن پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔ وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے اسی دن ریاض کے دورے کے بعد کہا کہ قاہرہ اب بھی سفارتی حل کا حامی ہے۔

ووٹنگ بند کمرے کی پارلیمانی بحث اور اختیار کی منظوری کے پہلے مؤخر ہونے کے بعد ہوئی۔ مصری آئین کے مطابق بیرونِ ملک جنگی مشن پر فوج بھیجنے کے لیے دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے۔ سعودی عرب مصر کے اہم ترین معاشی شراکت داروں میں شامل ہے۔

کنگز کالج لندن کے وزٹنگ سینئر ریسرچ فیلو نواف عبید نے الجزیرہ کو بتایا کہ سعودی حکام چاہتے تھے کہ انہیں یقین دلایا جائے کہ مانگنے پر مصر ساتھ دے گا۔ ان کے مطابق یہ ووٹ قاہرہ کا پیغام ہے کہ وہ موجود ہوگا، تاہم یہ سوال باقی ہے کہ ریاض کس قسم کی مدد مانگے گا اور مصر کیسے فراہم کرے گا۔

مصر کا بحیرۂ احمر کی سلامتی میں بھی براہِ راست مفاد ہے۔ باب المندب کے قریب حوثی حملوں سے، جو نہرِ سویز کا اہم راستہ ہے، جہاز رانی متاثر ہوئی اور نہر کی آمدن کم ہوئی۔ مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت والی پچھلی مہم میں شامل ہوا تھا، جہاں اس نے زیادہ تر بحری افواج سے جہاز رانی کے راستے محفوظ بنانے میں مدد دی۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد قاہرہ نے بڑے پیمانے پر بیرونِ ملک زمینی فوج تعینات نہیں کی۔

پیر کو السیسی نے قاہرہ میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی۔ مصری صدارت کے مطابق گوتریس نے خلیج میں کشیدگی روکنے کی مصری کوششوں کو سراہا۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ مزید لڑائی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی کارکن مقیم ہیں، اور خلیجی تنازع ان کی سلامتی، روزگار اور وطن بھیجی جانے والی رقوم پر اثر ڈالتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

مصرسعودی عربحوثی

اس خبر پر مزید