لاہور: سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی دیوار سے سرویلنس ڈرون ٹکرا گیا
لاہور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز کی بیرونی دیوار سے مبینہ طور پر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا ڈرون رات تقریباً 12:30 بجے ٹکرا گیا۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ اسے کس نے اڑایا اور مقصد کیا تھا۔

- ڈرون ہفتے کی رات تقریباً 12:30 بجے سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی بیرونی دیوار سے ٹکرایا۔
- پولیس کے مطابق وہ جلو موڑ کی سمت سے آیا۔
- بم ڈسپوزل اسکواڈ نے معائنے کے بعد اسے کلیئر قرار دیا۔
- ہربنس پورہ تھانے میں درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔
ڈیلی ٹائمز اور جیو نیوز کے مطابق لاہور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہیڈکوارٹرز کی بیرونی دیوار سے ہفتے کی رات تقریباً 12:30 بجے ایک سرویلنس ڈرون ٹکرا گیا۔ واقعے کے بعد عمارت میں فوری طور پر سکیورٹی ردعمل شروع کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ڈرون جلو موڑ کی سمت سے ہیڈکوارٹرز کی طرف آیا، عمارت کی بیرونی دیوار سے ٹکرایا اور زمین پر گر گیا۔ ڈیلی پاکستان نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ نامعلوم ملزمان نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ڈرون ہیڈکوارٹرز کی طرف بھیجا تھا۔
حکام کے مطابق ڈرون مبینہ طور پر سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کے اندرونی حصوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ پولیس کے مطابق جب سکیورٹی اہلکاروں نے اسے قبضے میں لیا تو اس کے کیمرے اور بیٹری کی لائٹس چل رہی تھیں۔
ہیڈکوارٹرز کی سکیورٹی ٹیم نے ڈرون کو تحویل میں لے کر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق ماہرین نے ڈیوائس کا معائنہ کیا اور اسے کلیئر قرار دے دیا، جس سے فوری سکیورٹی خدشہ ختم ہو گیا۔
پولیس کو شبہ ہے کہ نامعلوم افراد نے مبینہ دہشت گردانہ عزائم کے تحت ڈرون کو عمارت کی طرف بھیجا اور اس کا مقصد ہیڈکوارٹرز کے اندرونی حصوں کی ریکی کرنا تھا۔ یہ پولیس کے خدشات ہیں اور اب تک کسی کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈرون کون چلا رہا تھا اور مبینہ نگرانی کا مقصد کیا تھا۔ پولیس کے مطابق تفتیش کار واقعے کو ہر پہلو سے دیکھ رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کی سکیورٹی ٹیم نے واقعے پر قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ہربنس پورہ میں درخواست جمع کرائی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ کیوں اہم ہے
واقعہ لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک تنصیب سے متعلق ہے اور پولیس تحقیق کر رہی ہے کہ ڈرون کس نے اور کیوں بھیجا۔



