ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
دنیا6 ذرائع سے تصدیق شدہ

کانگو میں ایبولا کے کیسز 10 ہزار سے بڑھ گئے، وبا دیگر ممالک میں بھی پھیل گئی

کانگو کی وزارتِ صحت کے مطابق 15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے ایبولا کے 10,060 تصدیق شدہ کیسز اور 4,887 اموات ہو چکی ہیں۔ بنڈی بوگیو وائرس کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔

Photo: covid 19, coronavirus, dystopia, dystopian
Photo: covid 19, coronavirus, dystopia, dystopian تصویر: toyquests / Pixabay
اہم نکات
  • حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کانگو میں ایبولا کے 10,060 تصدیق شدہ کیسز اور 4,887 اموات ہو چکی ہیں۔
  • بنڈی بوگیو وائرس کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج نہیں ہے۔
  • یوگنڈا، کینیا اور نائیجیریا میں بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔
10,060تصدیق شدہ کیسز
4,887اموات
66متاثرہ ہیلتھ زونز
15 مئیوبا کے اعلان کی تاریخ

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 10 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔ منگل کو جاری کیے گئے وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 15 مئی کو وبا کے اعلان کے بعد سے 10,060 کیسز اور 4,887 اموات ہو چکی ہیں۔

یہ وبا بنڈی بوگیو وائرس سے پھیلی ہے، جو ایبولا کی ایک نایاب قسم ہے اور جس کی کوئی ویکسین یا علاج منظور نہیں ہوا۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے اسے تاریخ کی تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا قرار دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ کانگو کی تاریخ کی سب سے مہلک وبا بھی ہے اور تصدیق شدہ مریضوں میں سے تقریباً نصف جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

دیگر ممالک کے کیسز ملا کر یہ ایبولا کی دوسری سب سے بڑی اور دوسری سب سے مہلک وبا ہے۔ اس سے بڑی صرف 2014 تا 2016 کی مغربی افریقہ کی وبا تھی، جس میں دو سال کے اندر 28,600 افراد متاثر اور 11 ہزار سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔

تقریباً 80 فیصد نئے کیسز ان افراد سے سامنے آ رہے ہیں جو صحت حکام کی نگرانی میں موجود رابطوں کی کڑی سے باہر ہیں۔ افریقہ سی ڈی سی کے مطابق وبا کو قابو میں سمجھنے کے لیے کم از کم 95 فیصد کیسز معلوم رابطوں سے آنے چاہییں۔ وبا اب آٹھ صوبوں کے 66 ہیلتھ زونز تک پھیل چکی ہے، جبکہ ابتدا میں یہ صرف تین تھے۔

جوابی ٹیموں کے مطابق کچھ علاج مراکز پر گنجائش سے زیادہ بوجھ ہے اور دور دراز علاقوں میں طبی سامان اور عملے کی کمی ہے۔ کئی ٹیموں کے پاس گاڑیاں کم ہیں اور وہ خاندانوں کو مریض اور میت محفوظ تدفین کے لیے حوالے کرنے پر آمادہ کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے کم از کم نصف کو علاج کے لیے داخل ہی نہیں کیا گیا۔ بچوں کی معمول کی ویکسینیشن متاثر ہوئی ہے اور بعض صوبوں میں زچگی کے دوران اموات دگنی ہو گئیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہفتے کو ٹشوپو صوبے میں مشتبہ کیس پر کام کرنے والی ٹیم پر حملہ ہوا جس میں ایک نرس ہلاک اور ان کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا۔ ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ایکس پر کہا کہ لوگوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کو عزت اور تحفظ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

یوگنڈا میں گرمیوں میں 20 کیسز، زیادہ تر کانگو سے آئے ہوئے، اور دو اموات رپورٹ ہوئیں اور حکام کے مطابق وہاں اب کوئی فعال انفیکشن نہیں۔ وزیر صحت کرس بریانمو نے اتوار کو اعلان کیا کہ کانگو سے لوٹنے والے شہری اپنے خرچ پر 21 دن قرنطینہ میں رہیں گے۔ کینیا میں نو تصدیق شدہ کیسز اور دو اموات ہوئی ہیں، جہاں ایک مریض کانگو سے یوگنڈا کے راستے نیروبی پہنچا تھا۔ نائیجیریا میں ایک سوئس سفارتکار کی اہلیہ میں وائرس کی تصدیق ہوئی جو یوگنڈا کے دورے کے بعد بیمار ہوئیں؛ انہیں سوئٹزرلینڈ منتقل کر دیا گیا اور نائیجیریا نے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ سخت کر دی۔

جولائی سے علاج کے دو اینٹی وائرل طریقوں کے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے جمعے کو ویکسین کے پہلے کلینیکل ٹرائل کے آغاز کا اعلان کیا، جبکہ دو ٹرائلز یہ جانچ رہے ہیں کہ ایروبو ویکسین، جو صرف ایبولا وائرس کے خلاف منظور شدہ ہے، بنڈی بوگیو سے تحفظ دیتی ہے یا نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

وبا کئی افریقی ممالک تک پھیل چکی ہے اور ایبولا کی دوسری سب سے بڑی معلوم وبا ہے، اس لیے یہ عالمی صحت کی بڑی خبر ہے جس پر پاکستانی قارئین کی نظر رہے گی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایبولاکانگوصحتِ عامہ

اس خبر پر مزید