انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما غلام محی الدین دیوان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی
انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعرات کو پی ٹی آئی رہنما غلام محی الدین دیوان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی۔ مقدمہ 9 مئی کو شیرپاؤ پل پر مبینہ اشتعال انگیز تقاریر اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق ہے۔

- غلام محی الدین دیوان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع۔
- مقدمہ 9 مئی کو شیرپاؤ پل پر مبینہ تقاریر اور جلاؤ گھیراؤ کا ہے۔
- دیوان کو 12 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
- پنجاب اسمبلی کے رکن حافظ فرحت عباس کی عبوری ضمانت 17 نومبر تک بڑھا دی گئی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما غلام محی الدین دیوان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی۔ مقدمہ 9 مئی کو شیرپاؤ پل پر مبینہ اشتعال انگیز تقاریر اور جلاؤ گھیراؤ سے متعلق ہے۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق کیس کی سماعت اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے کی۔ سابقہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر دیوان کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ضمنی چالان تیار کیا جا رہا ہے اور جلد جمع کرا دیا جائے گا۔ عدالت نے پولیس کو کیس میں ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دیوان واقعے کے مقام پر موجود تھے اور مبینہ طور پر دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ تقاریر کیں اور جلاؤ گھیراؤ میں حصہ لیا۔ ان کی گرفتاری باضابطہ طور پر تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمہ نمبر 97/23 میں ظاہر کی گئی۔
عدالت نے دیوان کو واپس جیل بھیج دیا۔ انہیں 12 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق ایک اور معاملے میں انسداد دہشت گردی عدالت نے پنجاب اسمبلی کے رکن حافظ فرحت عباس کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری 17 نومبر تک بڑھا دی۔ یہ توسیع 9 مئی کے تشدد سے متعلق چار مقدمات پر ہے، جن میں جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور پر حملے شامل ہیں۔
فرحت عباس سابقہ عبوری ضمانت ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہوئے۔ استغاثہ نے مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا، جو عدالت نے منظور کر لیا۔ استغاثہ کو اگلی سماعت پر متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
فرحت عباس نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر 9 مئی کے واقعات سے متعلق چار مقدمات میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 9 مئی سے متعلق عدالتی مقدمات ایک بڑی قومی سیاسی خبر ہیں، اور یہ فیصلے کارروائی کی موجودہ صورتحال بتاتے ہیں۔



