ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

صدر زرداری اور وزیراعظم کی عالمی برادری سے تنازع کشمیر کے حل میں کردار کی اپیل

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کشمیر پر پیغامات جاری کیے۔ دونوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

Thajiwas Park, a popular tourist spot above the resort town of Sonamarg, in the Himalayas of the northern Indian state of Jammu and Kashmir. The park, located…
Thajiwas Park, a popular tourist spot above the resort town of Sonamarg, in the Himalayas of the northern Indian state of Jammu and Kashmir. The park, located… تصویر: Original: Ganesh Mohan T Derivative work: Unpetit… / Wikimedia Commons, CC BY 4.0
اہم نکات
  • یومِ سیاہ کشمیر 27 اکتوبر کو منایا گیا
  • قائدین نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق تنظیموں سے صورتحال کا نوٹس لینے کو کہا
  • پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا
27 اکتوبریومِ سیاہ کشمیر
79سرینگر میں بھارتی افواج کے داخلے کو گزرے سال (وزیراعظم)
1947سرینگر میں افواج اترنے کا سال

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ بھارتی غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور تنازع کے منصفانہ، پرامن اور پائیدار حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

یہ اپیل 27 اکتوبر کو منائے جانے والے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر جاری الگ الگ پیغامات میں کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق صدر نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 اس دن کی یاد دلاتا ہے جب بھارتی افواج سرینگر میں اتریں، جس سے جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک طویل اور دردناک باب کا آغاز ہوا۔

صدر زرداری نے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق کے لیے ان کی جدوجہد سے پاکستان کی بھرپور تائید کا اعادہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ آٹھ دہائیوں میں مقبوضہ علاقے کے عوام نے تشدد، جبر اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث شدید مصائب برداشت کیے اور نسلوں نے انصاف، وقار اور آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔

صدر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کا تعلق اس دیرینہ تنازع کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ 79 برس قبل بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں اور اس کے اثرات آج بھی خطے پر تاریک سائے ڈالے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس روز سے جموں و کشمیر کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی طویل قید باعثِ تشویش ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال قانونی تقاضوں کی پاسداری، بنیادی آزادیوں کے احترام اور علاقے کے حالات پر عالمی برادری کی زیادہ توجہ کی متقاضی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جموں و کشمیر پر پاکستان کا موقف واضح، مستقل اور اصولی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام تنازع کشمیر کے ایسے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر ممکن نہیں جو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

یہ کیوں اہم ہے

ان پیغامات میں کشمیر پر پاکستانی حکومت کا اعلان کردہ موقف سامنے آتا ہے، جو ملک کی خارجہ پالیسی اور بھارت کے ساتھ سلامتی کے تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

کشمیرآصف علی زرداریشہباز شریف

اس خبر پر مزید