ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ورلڈ بینک کی سندھ کے پراپرٹی ٹیکس اور بلدیاتی سہولیات کیلئے 15 کروڑ ڈالر کی منظوری

ورلڈ بینک نے سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام کیلئے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے ہیں۔ اس کا ہدف کراچی میں سالانہ پراپرٹی ٹیکس وصولی کو تقریباً 85 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کرنا ہے۔

Photo: coins, currency, investment, insurance
Photo: coins, currency, investment, insurance تصویر: stevepb / Pixabay

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • ورلڈ بینک نے اپنے بیان کے مطابق 30 اکتوبر کو پروگرام کی منظوری دی۔
  • کراچی میں سالانہ پراپرٹی ٹیکس وصولی کا ہدف 85 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔
  • وصول شدہ آمدن کا تقریباً 70 فیصد مقامی سہولیات پر خرچ ہوگا۔
  • سندھ کے دیگر شہری مراکز کی 20 کونسلوں کیلئے 4 کروڑ ڈالر رکھے گئے ہیں۔
15 کروڑ ڈالرکل مالی معاونت
8 کروڑ 50 لاکھ ڈالرکراچی کا سالانہ پراپرٹی ٹیکس ہدف
20 فیصد سے 50 فیصدٹیکس ادائیگی کی شرح کا ہدف
4 کروڑ ڈالرسندھ کے دیگر شہری مراکز کیلئے جزو

ورلڈ بینک نے سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام کیلئے 15 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت منظور کر لی ہے۔ پروگرام کا مقصد سندھ میں شہری پراپرٹی ٹیکس کی وصولی اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔

ایک بیان کے مطابق ورلڈ بینک گروپ کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے 30 اکتوبر کو اس فنڈنگ کی منظوری دی۔ جیو نیوز نے بیان کی تفصیلات رپورٹ کیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق کراچی میں اس وقت سالانہ تقریباً 85 لاکھ ڈالر پراپرٹی ٹیکس وصول ہوتا ہے، جبکہ اسی حجم کے شہروں میں کراچی کے مقابلے میں 82 سے 350 گنا زیادہ وصولی ہوتی ہے۔ پروگرام کا ہدف کراچی کی سالانہ وصولی کو 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچانا اور ٹیکس ادا کرنے کی شرح 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنا ہے۔

اس مقصد کیلئے بلنگ، ادائیگیوں کی کارروائی اور شکایات کے ازالے کا ایک انفارمیشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ مقامی کونسلوں میں مربوط مالیاتی انتظامی نظام بھی نافذ کیے جائیں گے۔ ڈیلی پاکستان نے اسے پراپرٹی ٹیکس وصولی کا جدید ڈیجیٹل نظام قرار دیا۔

وصول شدہ پراپرٹی ٹیکس کا تقریباً 70 فیصد حصہ شریک کونسلوں میں بلدیاتی ڈھانچے اور سہولیات پر دوبارہ خرچ کیا جائے گا۔ ڈیلی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے بتایا کہ سندھ کی مقامی کونسلیں اپنی آمدن کا 95 فیصد سے زیادہ حصہ صوبائی حکومت کی منتقلیوں سے حاصل کرتی ہیں۔

پروگرام سے کراچی کی 25 مقامی کونسلوں کے 35 لاکھ 80 ہزار افراد براہِ راست مستفید ہوں گے۔ فنڈنگ نتائج سے مشروط ہوگی۔ ایک آزاد تصدیقی ایجنسی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گی، جس کی بنیاد پر ہر کونسل کو رقم ملے گی۔

یہ رقم موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرنے والے بلدیاتی ڈھانچے اور خدمات پر خرچ ہوگی، جن میں نکاسی آب، سیوریج، اسکول، فائر اسٹیشن، سڑکیں اور اسٹریٹ لائٹس شامل ہیں۔

پروگرام میں 4 کروڑ ڈالر کا ایک الگ جزو بھی ہے، جس کے تحت سندھ کے دیگر شہری مراکز کی 20 مقامی کونسلوں میں پراپرٹی سروے اور ٹیکس انتظام کو وسعت دی جائے گی۔ ان علاقوں میں تقریباً 45 لاکھ افراد کو بالواسطہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ورلڈ بینک کی پاکستان کیلئے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا: "جو شہر اپنی آمدن خود پیدا کر سکتے ہیں وہ طویل مدت کیلئے منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کر سکتے ہیں،" (انگریزی سے ترجمہ)

یہ کیوں اہم ہے

کراچی کی 25 مقامی کونسلوں اور سندھ کے دیگر شہروں کی 20 کونسلوں کے رہائشی اس پروگرام کے دائرے میں آتے ہیں، اور فنڈز نکاسی آب، سیوریج، سڑکوں اور اسٹریٹ لائٹس جیسی سہولیات سے منسلک ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سندھورلڈ بینککراچی

اس خبر پر مزید