ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ورلڈ بینک سرمایہ کاری اصلاحات سے مشروط 600 ملین ڈالر قرض دے گا

پاکستان بریج پروگرام کے تحت ورلڈ بینک سے 600 ملین ڈالر قرض لینے جا رہا ہے، جس کی منظوری 29 جنوری 2027 کو متوقع ہے۔ حکومت نے انویسٹمنٹ ایکٹ اور فیکٹرنگ قانون سمیت نئے قوانین بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

The World Bank Group headquarters buildings in Washington, D.C. Adjacent second building, designed by Kohn Pedersen Fox .
The World Bank Group headquarters buildings in Washington, D.C. Adjacent second building, designed by Kohn Pedersen Fox . تصویر: AgnosticPreachersKid / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • بریج پروگرام کے تحت 600 ملین ڈالر قرض کی منظوری 29 جنوری 2027 کو متوقع ہے۔
  • حکومت نے انویسٹمنٹ ایکٹ، فیکٹرنگ قانون اور گندم و چینی کی آزادانہ بین الاقوامی تجارت کا وعدہ کیا ہے۔
  • پروگرام کی کل لاگت کا تخمینہ 1.2 ارب ڈالر ہے۔
600 ملین ڈالرورلڈ بینک کا قرض
1.2 ارب ڈالرپروگرام کی کل لاگت
29 جنوری 2027متوقع منظوری کی تاریخ
تقریباً 10 فیصدجی ڈی پی میں نجی سرمایہ کاری کا حصہ

پاکستان ورلڈ بینک کے بریج (بولڈ ریفارمز فار انویسٹمنٹ ڈریون گروتھ اینڈ ایمپلائمنٹ) پروگرام کے تحت 600 ملین ڈالر کا قرض حاصل کرنے جا رہا ہے۔ یہ بات بدھ کی دیر رات ورلڈ بینک کی جاری کردہ دستاویزات کے حوالے سے ایکسپریس ٹریبیون اور منٹ میرر نے رپورٹ کی۔

قرض وزارتِ خزانہ لے گی اور اس کی منظوری کا تخمینہ 29 جنوری 2027 ہے۔ پروگرام کی مجموعی لاگت 1.2 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ ورلڈ بینک 600 ملین ڈالر دے گا جبکہ باقی 593 ملین ڈالر وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔

حکومت نے بینک کو یقین دلایا ہے کہ وہ کم از کم دو نئے قوانین بنائے گی، یعنی انویسٹمنٹ ایکٹ اور فیکٹرنگ قانون۔ منٹ میرر کے مطابق انویسٹمنٹ ایکٹ سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط کرے گا اور پابندی والے شعبوں کی واضح فہرست طے کرے گا۔ فیکٹرنگ قانون کے تحت کاروبار غیر ادا شدہ انوائسز اور دیگر وصولیوں کے عوض رقم حاصل کر سکیں گے۔

دیگر وعدوں میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا بیس بنانا، چینی اور گندم کی آزادانہ بین الاقوامی تجارت کی اجازت دینا اور یوریا کی درآمد میں نجی افراد کا حصہ بڑھانا شامل ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گندم اور چینی کو امپورٹ ایکسپورٹ آرڈر 2022 سے نکالنے کے لیے صرف کابینہ کی منظوری درکار ہے۔

قرض یکساں دیوالیہ پن قانون کی بھی معاونت کرے گا جس کے لیے مخصوص ریگولیٹری اتھارٹی ہوگی، اور ایگزم بینک کو بینکنگ لائسنس کے ساتھ مکمل فعال کرنے کی بھی۔ پاکستان بزنس پورٹل کو رجسٹریشن، لائسنس اور منظوریوں کے مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر مکمل فعال کیا جائے گا۔ بیجوں کی اقسام کی منظوری کا ایک قومی نظام بھی بنے گا۔

درآمدات و برآمدات کی کلیئرنس کا وقت کم کرنا بھی اہداف میں شامل ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کسٹمز فیس لیس سسٹم کے ذریعے کلیئرنس کا وقت پہلے ہی کم کر چکی ہے۔ مالی معاونت ڈریپ کے عالمی ادارۂ صحت کے ریگولیٹری میچورٹی لیول 3 تک پہنچنے اور فارماسیوٹیکل انسپیکشن کو آپریشن اسکیم کی رکنیت کی بھی حمایت کرتی ہے۔

ورلڈ بینک نے کہا کہ "driven by an unfriendly business environment, private investment stands at around 10% of GDP, less than half the rate of regional peers, and FDI at around 0.6% of GDP"۔ منٹ میرر کے مطابق پاکستان 2035 تک نجی سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے تقریباً 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنا چاہتا ہے۔

علاوہ ازیں حکومت نے پنشن اور نجی شعبے کی اصلاحات کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 750 ملین ڈالر لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ رقم بجٹ خسارے کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل پہلے ہی قائم کر رکھی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قرض کا انحصار سرمایہ کاری اور گندم و چینی کی تجارت سے متعلق نئے قوانین پر ہے، جو پاکستانیوں کی معیشت پر اثر انداز ہوں گے۔ اصلاحات کاروباری رجسٹریشن، درآمدات اور بیرونِ ملک روزگار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ورلڈ بینکبریج پروگرامسرمایہ کاری

اس خبر پر مزید