قطر کو امریکہ ایران عبوری معاہدے کی اب بھی امید
قطر نے منگل کو کہا کہ ثالثوں کے درمیان تجاویز کے تبادلے کے باعث امریکہ اور ایران کے عبوری معاہدے کی امید موجود ہے۔ امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو دھمکیوں سے کوششیں مشکل ہو رہی ہیں۔

- قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ثالث تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں اور دونوں فریق انہیں دیکھ رہے ہیں۔
- قطر فریقین میں اعتماد بڑھانے کے لیے عبوری معاہدے پر کام کر رہا ہے۔
- قطر کے مطابق وہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون اور خلیجی ہمسایوں سے رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
قطر نے منگل کو کہا کہ اسے امید ہے کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، حالانکہ امریکہ کے تازہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو دھمکیوں سے ایران جنگ ختم کرنے کی کوششیں پیچیدہ ہو رہی ہیں۔ الجزیرہ اور یورونیوز کے مطابق یہ بات وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہی۔
الانصاری نے کہا کہ خطے کے ہمسائے اور بین الاقوامی شراکت دار معاہدہ کرانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور دونوں فریق سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یورونیوز کے مطابق تہران میں بات چیت کے بعد ثالثوں نے فوری طور پر تجاویز کا تبادلہ کیا۔
یورونیوز کے مطابق قطری وفد نے پیر کو ایرانی حکام سے تین گھنٹے سے زیادہ ملاقات کی اور شام کو دوحہ واپس آ گیا۔ الانصاری نے کہا کہ قطر ایک عبوری معاہدے کے لیے کام کر رہا ہے جس کا مقصد اعتماد قائم کرنا اور دونوں فریقوں کو اپنے وعدے پورے کرنے کا موقع دینا ہے۔ ان کے مطابق یہ پائیدار امن کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
ماجد الانصاری نے کہا: "اگر امید نہ ہوتی تو مذاکرات نہ ہوتے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ انہوں نے یہ بھی کہا: "اعتماد عمل سے بنتا ہے، کسی ایک اقدام سے نہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
جنگ فروری کے آخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے الگ الگ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی، جو تیل اور گیس کی برآمدات کا اہم راستہ ہے۔ یورونیوز نے بتایا کہ رات کو امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیرے قشم پر حملے کیے۔
الانصاری نے کہا کہ جہاز رانی کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور انہوں نے قطر یا دیگر ممالک کے جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جہازوں پر حملے اور دیگر فوجی کشیدگی پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں اور مذاکرات پر اثر ڈالیں گے۔ ان کے مطابق دوحہ مذاکرات کو عوامی دھمکیوں اور بیانات کے بجائے اپنی تجاویز پر سرکاری جوابات سے پرکھ رہا ہے۔
الانصاری کے مطابق قطر پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون اور خلیجی ہمسایوں سے رابطہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مزید کشیدگی روکی جا سکے۔ یورونیوز کے مطابق ایرانی حکام بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہرمز کھلنے یا جوہری مذاکرات شروع ہونے سے پہلے تہران کی شرائط پوری ہونا ضروری ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
امریکہ ایران معاہدہ خطے کی سلامتی اور تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے، جو پاکستان پر براہ راست پڑتا ہے۔ قطر کے مطابق وہ کشیدگی روکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔



