ابھی ابھی
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ترک سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر کو کراچی پہنچے گا، آف شور سروے ہوگا

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترک سیسمک تحقیقی جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ تقریباً دو دہائیوں بعد آف شور تلاش دوبارہ شروع کرنے کی پہلی بڑی کوشش ہوگی۔

ترک سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر کو کراچی پہنچے گا، آف شور سروے ہوگا
تصویر: flickruser:28179929@N08 / Wikimedia Commons, CC BY-SA 2.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترک سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچے گا
  • دو دہائیوں بعد آف شور تلاش بحال کرنے کی پہلی بڑی کوشش
  • وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں جائزہ اجلاس کی صدارت کی
17 سے 20 نومبرکراچی میں متوقع آمد
تقریباً 20 سالآف شور تلاش میں وقفہ

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ایک ترک سیسمک تحقیقی جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچے گا تاکہ آف شور تیل و گیس کی تلاش شروع کی جائے۔ ڈویژن نے جمعہ کو اس کا اعلان کیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ جہاز دو دہائیوں میں آف شور تلاش دوبارہ شروع کرنے کی پاکستان کی پہلی بڑی کوشش ہوگی۔ ڈیلی پاکستان اور ٹیک جوس کے مطابق یہ ترک پیٹرولیم کمپنی کا سیسمک سروے جہاز ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں جہاز کی آمد کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں جہاز اور مجوزہ آف شور سرگرمیوں کے سیکیورٹی، بحری اور آپریشنل انتظامات دیکھے گئے۔

اجلاس نے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو ہدایت کی کہ جہاز کی آمد اور آف شور کارروائیاں بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے قریبی رابطہ رکھیں۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ وہ کراچی میں جہاز کا خود استقبال کریں گے اور پاکستان اس منصوبے میں ترکیہ کی بھرپور معاونت کرے گا۔ ان کے مطابق اس سے توانائی کا تحفظ اور دوطرفہ تعاون مضبوط ہوگا۔

پیٹرولیم ڈویژن نے کہا: "اس کی آمد سے 20 سال بعد پاکستان کی آف شور تلاش کی کوششیں بحال ہوں گی، جو پاک ترک توانائی تعاون میں نیا سنگ میل ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) علی پرویز ملک نے کہا: "پاکستان اور ترکیہ مل کر ایسی تاریخی کامیابی حاصل کریں گے جو نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔" (انگریزی سے ترجمہ)

ترک وزیر توانائی الپارسلان بیراکتار نے تصدیق کی کہ جہاز اوروچ ریس پاکستان کے سمندری علاقے کی جانب رواں ہے۔ انہوں نے کہا: "پاکستان کے حوالے سے ہمارا کام جاری ہے۔ ہمارا سیسمک تحقیقی جہاز اوروچ ریس اس وقت پاکستان کے سمندری علاقے کی طرف جا رہا ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ)

بیراکتار نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ ٹی پی اے او کی بیرون ملک سرگرمیاں انضمام، حصولیابی یا بڑی تیل کمپنیوں کے ساتھ شراکت کے ذریعے بڑھانا چاہتا ہے، اور وہ صومالیہ کے ساحل پر ڈرلنگ کر رہا ہے۔

پاکستان نے اس سال مئی میں تقریباً دو دہائیوں بعد آف شور تیل و گیس کی تلاش کا شعبہ باضابطہ طور پر دوبارہ کھولا۔ حکومت نے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت دیے گئے بلاکس کے لیے پروڈکشن شیئرنگ معاہدے اور تلاش کے لائسنس جاری کیے۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا کہ حکومت نے اس تاریخ سے پیٹرول 352.59 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 382.25 روپے کر دیا۔ برینٹ خام تیل 98.29 سے 99.90 ڈالر فی بیرل کے درمیان رپورٹ ہوا۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ سروے ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے، جن کا اثر توانائی کی فراہمی اور درآمدات پر پڑتا ہے۔ ٹیک جوس کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی توانائی وسائل کی تلاش اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔ 6 نومبر سے پیٹرول 352.59 روپے فی لیٹر ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آف شور تلاشترکیہتوانائی

اس خبر پر مزید