پاکستان اور ترکیہ دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش بحال کریں گے
ترک پٹرولیم آف شور کمپنی کا سروے جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے تقریباً 20 سال بعد پاکستان میں سمندری تلاش دوبارہ شروع ہوگی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- ترک سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچے گا
- تقریباً دو دہائیوں بعد سمندر میں تلاش کی بحالی
- وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کو جائزہ اجلاس کی صدارت کی
پاکستان اور ترکیہ تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سرکاری اعلانات کے مطابق ترک پٹرولیم آف شور کمپنی (ٹی پی او سی) کا سیسمک سروے جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کو ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، جس میں جہاز کی آمد کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اے پی پی اور بزنس ریکارڈر کے مطابق اجلاس میں تلاش کی مہم کے آپریشنل، لاجسٹک، سمندری اور سکیورٹی انتظامات پر بات ہوئی۔
نوائے وقت کے مطابق جہاز کا نام اورچ رئیس ہے۔ اخبار نے بتایا کہ یہ پاکستانی سمندری حدود میں تحقیق اور سروے کرے گا تاکہ زیرِ سمندر تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر کی نشاندہی ہو سکے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق علی پرویز ملک نے کہا کہ وہ کراچی میں ترک جہاز کا خود استقبال کریں گے۔ اخبار نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان سمندری تیل و گیس کی تلاش کے منصوبے میں ترکیہ کو معاونت فراہم کرے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا: "یہ پاکستان اور ترکیے کی دوستی اور مکہ معاہدے کے بعد اہم سنگِ میل ہے"۔ انہوں نے مزید کہا: "پاکستان اور ترکیہ مل کر ایسی تاریخی کامیابی حاصل کریں گے جسے نسلوں تک یاد رکھا جائے گا"۔
روزنامہ جنگ کے مطابق ترک پٹرولیم کے پراجیکٹ مینیجر نے تیاریوں کے دوران مکمل تعاون پر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
ڈیلی پاکستان نے لکھا کہ یہ پیش رفت سمندری تلاش کی بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
رپورٹس میں سروے کے علاقے، لاگت، مدت یا ممکنہ ذخائر کے کسی اندازے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سروے مکمل ہونے کے بعد کیا ہوگا۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو بتایا تھا کہ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ترک سیسمک تحقیقی جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے، جو تقریباً دو دہائیوں بعد سمندری تلاش بحال کرنے کی پہلی بڑی کوشش ہوگی۔ 5 نومبر کو ہم نے یہ بھی بتایا کہ وزیر تجارت جام کمال خان نے استنبول میں کامسیک اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر تجارت سے ملاقات کی۔
یہ کیوں اہم ہے
ملک میں تیل اور گیس کی پیداوار کا اثر گھرانوں اور کاروبار کے توانائی اخراجات پر پڑتا ہے۔ خبر ڈاٹ پی کے کے ریکارڈ کے مطابق 7 نومبر کو پیٹرول 346 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 378 روپے فی لیٹر تھا۔ ترک کمپنی کے ساتھ سمندری تلاش کی بحالی سے ملکی سپلائی میں اضافے کا امکان ہو سکتا ہے، تاہم رپورٹس میں ذخائر کا کوئی اندازہ نہیں دیا گیا۔



