ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

وفاقی حکومت نے سرکاری تحائف سے متعلق توشہ خانہ قواعد سخت کر دیے

توشہ خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2026 کے تحت 300 ڈالر تک کے تحائف مارکیٹ قیمت ادا کر کے رکھنے کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ تاہم کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی بعض تحائف کو نیلامی سے مستثنیٰ کر سکے گی۔

Photo: gift, present, wood, package
Photo: gift, present, wood, package تصویر: image4you / Pixabay
اہم نکات
  • 300 ڈالر تک کے تحائف مارکیٹ قیمت دے کر رکھنے کی سہولت ختم
  • کون سے تحائف نیلامی سے مستثنیٰ ہوں گے، یہ فیصلہ کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی کرے گی
  • کھلی نیلامی، ماہانہ آن لائن ریکارڈ اور سالانہ آڈٹ لازمی
  • نیلامی کی آمدن بچیوں کی پرائمری تعلیم پر خرچ ہوگی
300 ڈالرسابقہ رکھنے کی حد
25 فیصد سے زیادہ فرقتیسرے جائزہ کار کی شرط
تین ماہریزرو پرائس کے لیے قیمت کی زیادہ سے زیادہ عمر

وفاقی حکومت نے عوامی عہدہ رکھنے والوں کو ملنے والے تحائف سے متعلق قواعد سخت کر دیے ہیں۔ توشہ خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2026 کے تحت 300 ڈالر تک مالیت کے تحائف تخمینہ شدہ مارکیٹ قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھنے کا پرانا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔

نئے قواعد میں تحائف کی وصولی، قیمت کے تعین، ریکارڈ اور تصرف کا نیا نظام دیا گیا ہے۔ جو تحائف سفارتی یا ثقافتی وجوہ سے لوٹائے نہ جا سکیں، انہیں توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔ تصرف کے قابل تحائف عموماً کھلی عوامی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔

نوادرات اور تاریخی یا ثقافتی اہمیت کی اشیا نیلامی سے خارج ہیں۔ زیادہ مالیت کے تحائف اور سفارتی یا بین الاقوامی طور پر حساس تحائف کو بھی استثنا مل سکتا ہے۔ یہ فیصلے کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی کرے گی، جس میں خزانہ، خارجہ، قانون اور ثقافت کے ڈویژنوں کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے۔ نیلامی سے استثنا کا مطلب یہ نہیں کہ اصل وصول کنندہ تحفہ ذاتی استعمال کے لیے رکھ سکتا ہے۔

2023 کے طریقہ کار میں بھی 300 ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف کو ریاستی ملکیت قرار دیا گیا تھا اور نوادرات و تاریخی اہمیت کی اشیا کو رعایت سے الگ رکھا گیا تھا۔ رکھنے، عطیہ کرنے یا نمائش کے لیے نامناسب تحائف کی وقتاً فوقتاً نیلامی کا بھی انتظام تھا۔

قیمت کے تعین کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجی شعبے کا آزاد جائزہ کار الگ الگ مارکیٹ ویلیو طے کریں گے۔ دونوں کے تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق ہو تو تیسرا جائزہ کار مقرر ہوگا۔ تین ماہ سے پرانی قیمت ریزرو پرائس کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گی، اور ریزرو پرائس تخمینہ شدہ مارکیٹ ویلیو سے کم نہیں ہو سکتی۔

قواعد کے مطابق نیلامی کھلی ہوگی، عوامی عہدیدار اور ان کے اہل خانہ بولی میں حصہ نہیں لے سکیں گے اور نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج ہوگی۔ تحائف کی تفصیل، تخمینہ شدہ قیمت، ریزرو پرائس اور حتمی نیلامی قیمت ماہانہ اپ ڈیٹ ہونے والے آن لائن پورٹل پر شائع کی جائے گی، تاہم تحفہ دینے والی شخصیات کے نام اور ممالک ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

توشہ خانہ کے ذریعے وصول اور نمٹائے گئے تحائف کا سالانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی لازمی ہے۔ نیلامی کی آمدن ایک علیحدہ اکاؤنٹ میں جمع ہوگی جو ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں بچیوں کی پرائمری تعلیم کے لیے مختص ہے۔

دی نیوز کے مطابق بیوروکریسی کے ایک ذریعے نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ قواعد مہنگے تحائف رکھنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں، کیونکہ ایسا کوئی عمومی استحقاق نہیں دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ استثنا کتنی یکسانیت سے دیے جاتے ہیں اور نیلامی سے باہر رکھے گئے تحائف کا حساب کتنی شفافیت سے رکھا جاتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ قواعد پاکستان کے عوامی عہدیداروں کو ملنے والے تحائف کی قیمت، نیلامی اور ریکارڈ کا طریقہ بدلتے ہیں، جس کا تعلق ریاستی اثاثوں کے احتساب سے ہے۔ نیلامی کی آمدن کم ترقی یافتہ علاقوں میں بچیوں کی پرائمری تعلیم کے لیے مختص ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

توشہ خانہحکومتی قواعداحتساب

اس خبر پر مزید