ابھی ابھیجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبورقومی اسمبلی کمیٹی کے سامنے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے مبینہ غلط استعمال پر سوالات
صحت6 ذرائع سے تصدیق شدہ

تیسری ذیلی قومی انسداد پولیو مہم 2 نومبر سے 97 اضلاع میں شروع

رواں سال کی تیسری ذیلی قومی انسداد پولیو مہم 2 نومبر سے 97 اضلاع میں شروع ہو کر 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ مہم میں 2 کروڑ 39 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔

Salk Polio Vaccine plaque, University of Pittsburgh, Pittsburgh, Pennsylvania, USA.
Salk Polio Vaccine plaque, University of Pittsburgh, Pittsburgh, Pennsylvania, USA. تصویر: Daderot / Wikimedia Commons

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، طبی مشورہ نہیں۔ اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اہم نکات
  • مہم 97 مخصوص اضلاع میں 2 نومبر سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔
  • ہدف 2 کروڑ 39 لاکھ بچے ہیں اور سب سے بڑا حصہ پنجاب کا ہے۔
  • وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو نے والدین سے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو قطرے پلوانے کی اپیل کی۔
97شامل اضلاع
2 کروڑ 39 لاکھہدف بچے
2 سے 8 نومبرمہم کی تاریخیں
9 لاکھ سے زائدپشاور اور خیبر کی خصوصی مہم میں بچے

رواں سال کی تیسری ذیلی قومی انسداد پولیو مہم پیر 2 نومبر سے ملک کے 97 مخصوص اضلاع میں شروع ہو رہی ہے۔ نوائے وقت اور ڈیلی پاکستان کی رپورٹس کے مطابق یہ مہم 2 نومبر سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔

مہم کے دوران ان 97 اضلاع میں 2 کروڑ 39 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس میں چاروں صوبے، وفاقی دارالحکومت، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق صوبوں کے اہداف یہ ہیں۔ پنجاب کے 13 اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار بچے اور خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار بچے ہدف ہیں۔

بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار بچوں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد میں 4 لاکھ 47 ہزار بچے ہدف ہیں۔ گلگت بلتستان کے تین اور آزاد کشمیر کے دو اضلاع بھی مہم میں حصہ لیں گے۔

مہم سے قبل وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ ان کا یہ پیغام یکم نومبر کو اسلام آباد سے اے پی پی نے جاری کیا۔

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے اور حکومت پاکستان کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔

علاوہ ازیں اے پی پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت پشاور اور ضلع خیبر کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں ایک خصوصی انسداد پولیو مہم میں معاونت کر رہا ہے۔ اس کا مقصد 10 سال تک کی عمر کے 9 لاکھ سے زائد بچوں کو اس بیماری سے بچانا ہے، اور اس میں پولیو کے قطروں کے ساتھ انجیکشن والی پولیو ویکسین کی بوسٹر خوراک بھی دی جا رہی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے 97 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کے والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کی اس مہم میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پولیوویکسینیشنپنجاب

اس خبر پر مزید