ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

قلعہ سیف اللہ میں آپریشن، دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ ہلاک

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کا کمانڈر عادل شاہ عرف درویش مارا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے خلاف 19 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر تھی۔

Trees in Balochistan
Trees in Balochistan تصویر: Umer Ghazanfar Malik (UGM). PE, FCIArb / Wikimedia Commons, CC BY 2.0
اہم نکات
  • سکیورٹی ذرائع کے مطابق عادل شاہ عرف درویش قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن میں مارا گیا
  • ذرائع کے مطابق اس کے خلاف 19 مقدمات درج تھے اور 25 لاکھ روپے انعام مقرر تھا
  • آپریشن بلوچستان میں ردالفتنہ 3 کا حصہ تھا
25 لاکھ روپےانعامی رقم
19درج مقدمات
2,425پاکستان میں حملے 2025 (ایکلڈ)
658حملے 2022 (ایکلڈ)

سکیورٹی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے ایک کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز اور بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ تفصیل ریڈیو پاکستان اور آج نیوز سمیت ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی۔

ذرائع نے ہلاک کمانڈر کی شناخت عادل شاہ عرف درویش کے طور پر کی۔ فتنہ الخوارج ریاست کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔

ذرائع کے مطابق وہ دسمبر 2020 سے اس گروہ سے وابستہ تھا اور 2024 سے اس کے مالی امور دیکھ رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نے ژوب، شیرانی اور شعبان میں غیر مقامی دہشت گردوں کی رہائش کا انتظام کرنے میں مدد بھی کی۔

ذرائع کے مطابق وہ 2022 سے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور تاوان کے لیے اغوا کی وارداتوں میں ملوث رہا۔ جیو نیوز نے یہ عرصہ 2022 اور 2023 بتایا، جبکہ بزنس ریکارڈر نے بھتہ خوری کا بھی ذکر کیا۔

ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں اس کے خلاف 19 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ آپریشن بلوچستان میں جاری آپریشن ردالفتنہ 3 کا حصہ تھا، جسے فوج کے میڈیا ونگ نے انسداد دہشت گردی مہم قرار دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے دہرایا کہ صوبے میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ایکسپریس ٹریبیون نے ایکلڈ کے اعداد و شمار کے حوالے سے لکھا کہ پاکستان میں حملے 2022 کے 658 سے بڑھ کر 2025 میں 2,425 ہو گئے، جو تقریباً چار گنا اضافہ ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کے حملے 118 سے بڑھ کر 838 ہو گئے۔ جیو نیوز کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان میں 12 سال کی سب سے زیادہ ماہانہ عسکری حملے ریکارڈ ہوئے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گزشتہ ہفتے کلات اور مستونگ کے درمیان سفر کرتے ہوئے 20 زیر تربیت پولیس اہلکار اغوا ہوئے۔ جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد کابل سے بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کی سرزمین حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے، جبکہ کئی دور کی بات چیت کے باوجود اختلافات برقرار ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

دہشت گرد حملے اور انسداد دہشت گردی کارروائیاں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے تحفظ پر اثر انداز ہوتی ہیں، جہاں رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں حملے بڑھے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

بلوچستانقلعہ سیف اللہانسداد دہشت گردی

اس خبر پر مزید