ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی ہر صورت ختم کریں گے: طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے آنے والی دہشت گردی ختم کی جائے گی۔ ان کے مطابق افغان سرزمین استعمال ہوئی تو پاکستان ہر ضروری اقدام کا حق رکھتا ہے۔

Photo: tajikistan, afghanistan, wachan corridor, wakhan river
Photo: tajikistan, afghanistan, wachan corridor, wakhan river تصویر: Makalu / Pixabay
اہم نکات
  • طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کی
  • کہا پاکستان ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے
  • افغان حکام کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا
  • سیکیورٹی اداروں سے عدم تعاون پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی: وزیر

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی ہر صورت ختم کی جائے گی۔ وہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کریں اور دراندازی روکنے کی ذمہ داریاں پوری کریں۔

وفاقی وزیر کے مطابق اگر پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی تو نتائج کی ذمہ داری افغان عبوری حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر ضروری اقدام کا حق رکھتا ہے اور مسلح افواج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے افغان حکام کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور ناقابل قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان الزامات کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے دراندازی کے ٹھوس شواہد افغان حکام کو دیے ہیں، جبکہ استنبول اور دوحہ مذاکرات میں بھی افغان نمائندوں کو شواہد فراہم کیے گئے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے باوجود افغان عبوری حکومت دراندازی روکنے میں ناکام رہی۔

وزیر نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے دراندازی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور افغانستان سے ہونے والی دراندازی روکنے کے لیے بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ پاکستان پر جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں سے عدم تعاون کے باعث صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی انتظامیہ کا تعاون حاصل ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

افغان سرزمین سے ہونے والے مبینہ حملے اور دراندازی پورے پاکستان کی سلامتی پر اثر انداز ہوتے ہیں، جن میں خیبر پختونخوا بھی شامل ہے جہاں وزیر کے مطابق ایمرجنسی نافذ کی گئی۔

غلطی کی نشاندہی کریں

افغانستاندہشت گردیخیبر پختونخوا

اس خبر پر مزید