عطا تارڑ کا نیشنل سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کا اعلان
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایک سے دو ہفتوں میں نیشنل سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل قائم کی جائے گی۔ انہوں نے یہ اعلان اسلام آباد میں سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتے کی تقریب میں کیا۔

- تارڑ کے مطابق کونسل ایک سے دو ہفتوں میں قائم ہوگی۔
- انہوں نے تجویز دی کہ پی ٹی اے کونسل کی سربراہی کرے اور وزارتیں، صوبے، این سی سی آئی اے، ایس ایم پی آر اے اور یو این ڈی پی رکن ہوں۔
- تارڑ نے کہا کہ قانونی فریم ورک کے ذریعے اے آئی سے بنے مواد پر لیبل لگانا لازمی ہوگا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ ایک سے دو ہفتوں کے اندر نیشنل سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل قائم کی جائے گی۔ وہ اسلام آباد میں سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تارڑ نے تجویز دی کہ کونسل میں وفاقی وزارتیں، تمام صوبائی حکومتیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، ایس ایم پی آر اے اور یو این ڈی پی شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کی سربراہی پی ٹی اے کرے۔
ان کے مطابق کونسل اس لیے ضروری ہے کہ عوامی آگاہی اور اصلاحات پورا سال جاری رہ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محض رسمی مہمات یا ایک ہفتے کی آگاہی سے ڈیجیٹل چیلنجز پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ معاشرہ سوشل میڈیا اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کی آمد کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے ضابطہ کار کے فریم ورک نہیں بن سکے اور نتیجتاً قوانین پر عمل درآمد سنگین چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حل سوشل میڈیا کے اندر ہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کونسل کے قیام پر اتفاق کو تقریب کے اعلامیے کا حصہ بنایا جائے، اور حکومت و وزارتِ اطلاعات کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
تارڑ نے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے نصاب میں ڈیجیٹل لٹریسی کو لازمی حصہ بنانے اور تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل لٹریسی سیل قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اور ضابطہ کار فریم ورک کے ذریعے تمام پلیٹ فارمز پر اے آئی سے تیار کردہ مواد پر اے آئی لیبلنگ لازمی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے وزارت سنبھالی تو اس کا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ صفر تھا، اور اب پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کو سائبر سکیورٹی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے اور وہ سائبر حملوں اور ڈیجیٹل خطرات کا ہدف بننے والا ملک ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ہزاروں جعلی ویڈیوز اور جھوٹی معلومات گردش کرتی ہیں، اور شہریوں کو فراڈ کے لیے جعلی کالز اور ون ٹائم پاس ورڈ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ ٹیلی کام شعبہ مکمل محفوظ نہیں اور اسے آگاہی مہمات اور جامع قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا: «شہری کسی بھی قسم کے جعلی اور تصدیق کے بغیر موصول ہونیوالے پیغامات کو آگے نہ پھیلائیں»۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں شہریوں کو فراڈ کے لیے جعلی کالز اور ون ٹائم پاس ورڈ کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، اور کونسل کا مقصد انہیں آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل دھوکے سے بچانا ہے۔



