سپریم کورٹ: پنشن فنڈ کا سرپلس بینک کو واپس ملنے پر ہی قابلِ ٹیکس
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پنشن فنڈ کا سرپلس اس وقت تک بینک کی قابلِ ٹیکس آمدن نہیں جب تک وہ اصل میں آجر کو واپس نہ ملے۔ عدالت نے ایم سی بی بینک کے خلاف کمشنر انلینڈ ریونیو کی اپیل خارج کر دی۔

- پنشن فنڈ کا سرپلس آجر کو اصل میں واپس ملنے تک بینک کی قابلِ ٹیکس آمدن نہیں۔
- تین رکنی بینچ نے ایم سی بی بینک کے خلاف کمشنر انلینڈ ریونیو کی اپیل خارج کی۔
- عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت پنشن فنڈ میں پیدا ہونے والا سرپلس بینک کی قابلِ ٹیکس آمدن نہیں سمجھا جا سکتا، جب تک وہ رقم حقیقتاً آجر کو واپس نہ کی جائے۔ اس فیصلے کی خبر اے پی پی اور ڈیلی ٹائمز نے دی۔
فیصلہ جسٹس عقیل احمد عباسی نے تحریر کیا۔ مقدمے کی سماعت جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔
بینچ نے ایم سی بی بینک کے خلاف کمشنر انلینڈ ریونیو کی دائر کردہ دیوانی اپیل خارج کر دی۔ اس طرح عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے چھٹے شیڈول کے حصہ دوم کے رول 4 کا حوالہ دیا۔ اس رول کے مطابق پنشن فنڈ میں آجر کے حصے کی رقوم یا ان سے حاصل ہونے والی آمدن اس ٹیکس سال میں قابلِ ٹیکس ہوتی ہے جس میں آجر کو وہ رقم اصل میں واپس ملے۔
بینک ساتویں شیڈول کے تحت خصوصی ٹیکس نظام کے دائرے میں آتے ہیں، جس میں پنشن فنڈ کے سرپلس کے بارے میں کوئی مخصوص شق موجود نہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق چھٹے شیڈول کی متعلقہ شقیں ساتویں شیڈول کے رول 9 کے ذریعے بینک کے پنشن فنڈ سرپلس پر لاگو ہوتی ہیں۔
عدالت نے اکاؤنٹنگ کے پہلو پر بھی بات کی۔ آئی اے ایس 19 کے تحت سالانہ ایکچوریل جائزے میں پنشن فنڈ کے اثاثوں اور واجبات میں سرپلس یا خسارہ ظاہر ہو سکتا ہے، مگر مالی گوشواروں میں سرپلس درج کرنے سے وہ قابلِ ٹیکس آمدن نہیں بن جاتا۔
عدالت کے مطابق ٹیکس کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ ٹیکس قانون سے الگ محض اکاؤنٹنگ اصولوں پر نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس حکام کسی بینک کے مستقل طور پر اپنائے گئے اکاؤنٹنگ طریقے کو ٹھوس قانونی وجہ کے بغیر مسترد نہیں کر سکتے۔
یہ کیوں اہم ہے
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ پنشن فنڈ کے سرپلس پر ٹیکس کب لگے گا، جو پاکستان میں کام کرنے والے بینکوں اور پنشن فنڈز کو متاثر کرتا ہے۔



