ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

سندھ ہائیکورٹ نے را کے مبینہ ایجنٹ کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی

سندھ ہائیکورٹ نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ ایجنٹ محمد سلیم کی ریاست کے خلاف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات پر عمر قید کالعدم قرار دے دی۔ دھماکا خیز مواد کے کیس میں عمر قید کم کر کے 10 سال کر دی گئی۔

1903 Courthouse Building in Westport, West Coast, New Zealand
1903 Courthouse Building in Westport, West Coast, New Zealand تصویر: Mike Dickison / Wikimedia Commons, CC BY 4.0
اہم نکات
  • ریاست کے خلاف سازش اور مسلح جارحیت پر عمر قید کالعدم قرار دی گئی۔
  • دھماکا خیز مواد رکھنے پر عمر قید گھٹا کر 10 سال کر دی گئی۔
  • غیر قانونی اسلحے پر 10 سال قید اور جرمانہ برقرار رہا۔
  • عدالت نے کہا بھارت کے دورے بذات خود را سے تعلق ثابت نہیں کرتے۔
10 سالدھماکا خیز مواد کے کیس میں کم کی گئی سزا
7 اکتوبر 2024استغاثہ کے مطابق کارروائی کی تاریخ
34 سالدیگر الزامات پر مجموعی قید

سندھ ہائیکورٹ نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مبینہ ایجنٹ محمد سلیم کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی ہے۔ اپیل انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سنائی گئی سزاؤں کے خلاف تھی۔ ایکسپریس نیوز اور روزنامہ جنگ نے یہ فیصلہ رپورٹ کیا۔

عدالت نے ریاست کے خلاف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات پر دی گئی عمر قید کالعدم قرار دے دی۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی سزا بھی ختم کر دی گئی۔

دھماکا خیز مواد رکھنے سے متعلق عمر قید کو کم کر کے 10 سال قید کر دیا گیا۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 10 سال قید اور جرمانے کی سزا برقرار رکھی گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ را سے تعلق اور سازش کے الزامات کے لیے کوئی قابل اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق ملزم کے بھارت کے دوروں کی سفری تاریخ بذات خود را سے تعلق یا ریاست کے خلاف سازش ثابت نہیں کرتی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ استغاثہ مبینہ ساتھیوں سے رابطے، سازش یا ریاست کے خلاف جنگ کی تیاری کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔

دہشت گردی کے بارے میں عدالت نے قرار دیا کہ دھماکا خیز مواد اور اسلحے کی برآمدگی بذات خود اس جرم کو ثابت نہیں کرتی۔ عدالت کے مطابق دہشت پھیلانے کی نیت اور مقصد کو ثابت کرنا ضروری ہے۔

استغاثہ کے مطابق 7 اکتوبر 2024 کو ایس آئی یو نے را کے ایک ایجنٹ کی اطلاع پر منوڑہ کے علاقے میں کارروائی کی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم سے پستول، دھماکا خیز مواد، ایک اوان بم، راکٹ لانچر اور دو پاسپورٹ برآمد ہوئے۔

استغاثہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ محمد سلیم نے غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شہریت حاصل کی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے تین بار عمر قید اور دیگر الزامات میں مجموعی طور پر 34 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام الزامات بے بنیاد اور غیر ثابت شدہ ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ فیصلہ بھارتی جاسوسی کے مبینہ کیس سے متعلق ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عدالتیں قومی سلامتی اور دہشت گردی کے مقدمات میں شواہد کو کیسے پرکھتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سندھ ہائیکورٹراانسداد دہشت گردی ایکٹ

اس خبر پر مزید