سندھ حکومت نے ایم ڈی کیٹ 2026 پر اعتراضات اور دعوے مسترد کر دیے
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ 2026 میں کراچی کے امیدواروں کی کارکردگی صوبے کے دیگر ڈویژنوں سے بہتر رہی۔ محکمہ صحت سندھ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو اپنا جواب بھیج دیا ہے۔

- محکمہ صحت سندھ نے پی ایم ڈی سی کو بتایا کہ ضلع وار ڈیٹا کراچی کی ناقص کارکردگی کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتا
- سندھ بھر میں 33,336 امیدوار شریک ہوئے، کراچی کا اوسط اسکور 107.67 نمبر رہا
- پی ایم ڈی سی نے 5 اکتوبر کو خط لکھ کر دو ہفتوں میں انکوائری رپورٹ مانگی تھی
سندھ حکومت نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 سے متعلق اعتراضات اور دعوے مسترد کر دیے ہیں۔ اس کا مؤقف ہے کہ کراچی کے امیدواروں نے صوبے کے دیگر ڈویژنوں کے طلبہ سے بہتر کارکردگی دکھائی۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو جواب بھجوایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ نتائج اور ضلع وار ڈیٹا کا تجزیہ کراچی کے طلبہ کی ناقص کارکردگی کے الزامات کی تائید نہیں کرتا۔
محکمے کے مطابق سندھ بھر میں 33,336 امیدواروں نے امتحان دیا اور 57.96 فیصد نے 90 یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے۔ خط میں بتایا گیا کہ ڈویژنوں میں کراچی سب سے آگے رہا جہاں اوسط اسکور 107.67 نمبر تھا۔
محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے 9,505 امیدواروں میں سے 66.98 فیصد نے 90 یا زیادہ اور 57.78 فیصد نے 99 یا زیادہ نمبر لیے۔ دیگر ڈویژنوں میں 90 یا زیادہ نمبر لینے والوں کی شرح سکھر میں 55.04، لاڑکانہ میں 54.50، شہید بینظیر آباد میں 53.62 اور حیدرآباد میں 52.34 فیصد بتائی گئی۔
محکمہ صحت نے کہا کہ کراچی کے تمام اضلاع سندھ کے نو بہترین کارکردگی والے اضلاع میں شامل ہیں۔ اس کے مطابق تجزیہ سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ سروس (ایس ٹی ایس) کے مرتب کردہ ڈیٹا پر مبنی ہے، جس نے گزشتہ برسوں میں ایم ڈی کیٹ لیا تھا اور شفافیت کے لیے امیدواروں کے نمبر اور ڈومیسائل کی تفصیلات شائع کی تھیں۔
سندھ حکومت نے کہا کہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں نشستیں داخلہ قواعد کے تحت ضلع کی بنیاد پر الاٹ ہوتی ہیں اور کراچی کی نشستیں کراچی کے متعلقہ ڈومیسائل رکھنے والوں کے لیے مخصوص ہیں۔ دیگر اضلاع کے امیدواروں کے زیادہ نمبر کراچی کی نشستوں کی تقسیم تبدیل نہیں کریں گے۔ محکمے نے یہ بھی کہا کہ مختلف اضلاع کے طلبہ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں تیاری کر سکتے ہیں۔
محکمے کا کہنا تھا کہ صرف ڈومیسائل کی بنیاد پر زیادہ نمبر لینے والوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، اور اس نے زور دیا کہ نتائج کو سیاسی مقاصد کے لیے متنازع نہ بنایا جائے۔
یہ جواب پی ایم ڈی سی کے 5 اکتوبر کے خط کے بعد سامنے آیا، جس میں سندھ سے الزامات کی تحقیقات کرکے دو ہفتوں میں رپورٹ دینے کو کہا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے بھی آزاد اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر پرچہ لیک ہونے کی شکایات سامنے آئی تھیں اور قانون سازوں نے بھی امتحان کی ساکھ اور شفافیت پر تشویش ظاہر کی تھی۔
یہ کیوں اہم ہے
ایم ڈی کیٹ ہزاروں طلبہ کے میڈیکل کالج داخلوں کا فیصلہ کرتا ہے، اس لیے اس کی شفافیت کا تنازع ان کے خاندانوں کے لیے اہم ہے۔ ضلع اور ڈومیسائل کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کراچی اور سندھ کے دیگر ڈویژنوں کے امیدواروں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔



