حیدرآباد کی سڑک پر کھمبے چھوڑنا منصوبہ بندی تھی: وزیر اعلیٰ سندھ
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سڑک کے بیچ کھمبے چھوڑنے کی وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق 100 میں سے 25 کھمبے ہٹائے جا چکے ہیں، جبکہ روزنامہ جنگ کے مطابق سڑک سے تمام کھمبے ہٹا دیے گئے ہیں۔

- مراد علی شاہ نے کہا کہ کھمبے چھوڑنا منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔
- ان کے مطابق 100 میں سے 25 کھمبے ہٹائے جا چکے ہیں۔
- روزنامہ جنگ کے مطابق سڑک سے تمام کھمبے ہٹا دیے گئے ہیں۔
- ان کا کہنا تھا کہ رقم لینے کے باوجود حیسکو نے کھمبے نہیں ہٹائے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سڑک کے بیچ بجلی کے کھمبے رہ جانے کے معاملے پر وضاحت پیش کی ہے۔ کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھمبے چھوڑنا منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔
انہوں نے بتایا کہ چیف سیکریٹری نے کنٹونمنٹ بورڈ سے سڑک کے لیے زمین حاصل کرنے کا انتظام کیا۔ ان کے مطابق سندھ حکومت نے حیسکو کے پاس رقم جمع کرائی، مگر حیسکو نے کھمبے نہیں ہٹائے۔
وزیر اعلیٰ کے بقول حکومت نے اس لیے سڑک بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ حیسکو پر دباؤ پڑے۔ پھر سڑک پر ٹریفک کھول دیا گیا، جس کے بعد لوگ پوچھنے لگے کہ کھمبے سڑک کے بیچ میں کیوں ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 100 میں سے 25 کھمبے اب ہٹائے جا چکے ہیں۔ تاہم منٹ میرر نے اپنی رپورٹ میں مختلف تعداد بتائی اور ہٹائے گئے کھمبوں کی تعداد 50 لکھی۔
روزنامہ جنگ نے بعد میں رپورٹ کیا کہ حیدرآباد میں قاسم آباد سے علمدار چوک تک سڑک پر نصب بجلی کے تمام کھمبے ہٹا دیے گئے ہیں۔ اخبار کے مطابق حیسکو کا کام کل تک مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے میڈیا اور سوشل میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا: "میڈیا اور سوشل میڈیا کا شکریہ جنہوں نے ہماری مدد کی کیونکہ وفاقی ادارے ہماری بات نہیں سنتے"۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سڑک کا کام مکمل ہونے سے حیدرآباد کے شہریوں کے لیے بہت آسانی ہو جائے گی۔ انہوں نے پورے منصوبے کو ایک عظیم منصوبہ قرار دیا جس میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
حیدرآباد میں اس سڑک کو استعمال کرنے والے شہریوں کو سڑک کے بیچ کھمبوں کی وجہ سے ٹریفک اور حفاظت کے مسائل کا سامنا رہا۔ کھمبے ہٹائے جانے کی اطلاعات ان کی آمدورفت پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔



