وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا دفاع
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی حالات میں یہ فیصلہ ضروری تھا اور اس سے مزید نقصان سے بچاؤ ہوا۔

- شہباز شریف نے کہا کہ مزید نقصان روکنے کے لیے گورنر راج اور ایمرجنسی ضروری تھی۔
- ان کے مطابق فیصلے سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے 48 گھنٹے مذاکرات ہوئے۔
- انہوں نے کہا کہ فیول سبسڈی سے تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوئے اور اس کے لیے 75 ارب روپے رکھے گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں یہ فیصلہ ضروری تھا اور اس سے صوبے کو مزید نقصان سے بچانے میں مدد ملی۔
وہ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی ارکان اور عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ منٹ مرر نے اسے خیبر پختونخوا کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے طور پر بیان کیا، جبکہ ڈیلی ٹائمز کے مطابق یہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے فیصلے سے پہلے مذاکرات کی کئی کوششیں کیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے نمائندوں پر مشتمل مذاکراتی کمیٹیوں نے 48 گھنٹے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں طے پانے والا مسودہ منظوری کا منتظر رہا جو نہیں ملی، اس لیے فیصلہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ ان کے بقول تاخیر سے مزید نقصان اور صورتحال کی خرابی ہو سکتی تھی۔
وزیراعظم نے صوبے پر حکمرانی کرنے والی جماعت کی 13 سالہ کارکردگی پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس عرصے میں کتنی جامعات اور اسپتال بنے، اور کہا کہ پشاور، کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع آج بھی سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق انہوں نے کہا کہ 2010 سے این ایف سی ایوارڈ میں ایک فیصد خصوصی حصے کے تحت صوبے کو 800 ارب روپے سے زائد ملے، اور پوچھا کہ سیف سٹی منصوبوں اور سی ٹی ڈی کی صلاحیت جیسے سکیورٹی ڈھانچے کے لیے وسائل کم کیوں رہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد نواز شریف نے اکثریتی جماعت کو صوبائی حکومت بنانے کی اجازت دی تھی، اور کہا کہ مسلم لیگ ن نے خیبر پختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
سکیورٹی کے حوالے سے شہباز شریف نے الزام لگایا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر پاکستان میں بسایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی دوبارہ لہر سے ملک کو بڑا نقصان پہنچا، اور حکومت نے سیاسی قوتوں کو دہشت گردی کے خلاف ساتھ دینے کی دعوت دی مگر مطلوبہ جواب نہیں ملا۔ انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کے خلاف اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔
معیشت پر انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے اسے مستحکم کرنے کے لیے کام کیا۔ ان کے مطابق خلیجی جنگ اور عالمی پیش رفت سے توانائی کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھیں، جس پر حکومت نے فیول سبسڈی اسکیم متعارف کرائی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوئے اور 75 ارب روپے مختص کیے گئے۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق ہنگامی انتظامی اقدامات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک قانون سازی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ وفاقی آڈیٹرز وسائل کی تقسیم کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن صوبے میں ترقی اور عوامی فلاح کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
یہ کیوں اہم ہے
گورنر راج اور ایمرجنسی خیبر پختونخوا کے لاکھوں رہائشیوں کے لیے حکمرانی اور سکیورٹی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ وزیراعظم کا بیان اس اقدام کے بارے میں وفاقی حکومت کا مؤقف سامنے لاتا ہے۔



