سینیٹ نے سفارتی پاسپورٹ محدود کرنے کا بل مسترد کر دیا
سینیٹ نے پیر کو پاسپورٹ (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کی تحریک مسترد کر دی۔ نجی رکن کے اس بل میں وزرائے مملکت، مشیروں، معاونینِ خصوصی اور سینئر افسران کے سفارتی پاسپورٹ محدود کرنے کی تجویز تھی۔

- سینیٹ نے پیر کو پاسپورٹ (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کی تحریک مسترد کی
- بل میں وزرائے مملکت، مشیروں، معاونینِ خصوصی، وفاقی سیکریٹریوں اور ڈائریکٹر جنرلز کو عہدے کی بنیاد پر سفارتی پاسپورٹ نہ دینے کی تجویز تھی
- وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے مخالفت کی اور کہا کہ یہ کابینہ کے اختیار میں مداخلت ہے
سینیٹ نے پیر کو پاسپورٹ (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کی تحریک مسترد کر دی۔ یہ نجی رکن کا بل تھا جس کا مقصد سفارتی پاسپورٹ کے اجرا کو محدود کرنا تھا۔
بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین فیصل سلیم رحمان نے سینیٹرز سمینہ ممتاز زہری اور سیف اللہ ابڑو کے ساتھ پیش کیا۔ ڈیلی ٹائمز نے فیصل سلیم رحمان کو پی ٹی آئی کا سینیٹر لکھا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے بل کی مخالفت کی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق انہوں نے کہا کہ آپ کابینہ کے اختیار میں ترمیم لا رہے ہیں۔ ٹیک جوس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ بل کابینہ کے اختیار کو محدود کرتا ہے۔
فیصل رحمان نے جواب میں کہا کہ بل سفارتی پاسپورٹ کے بارے میں ہے جو ان کے بقول صرف وزرا کے پاس ہونے چاہییں اور انہیں عام طور پر نہیں بانٹا جانا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ وزیر مملکت بھی پارلیمان کا نمائندہ ہوتا ہے۔
بل میں پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں نئی دفعہ 12 اے شامل کرنے کی تجویز تھی۔ اس کے تحت وزیر مملکت، وزیراعظم کے مشیر یا معاون خصوصی، سیکریٹری خارجہ کے علاوہ کسی وفاقی سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل کو محض عہدے کی بنیاد پر سفارتی پاسپورٹ جاری، دوبارہ جاری یا تجدید نہیں کیا جا سکتا تھا۔
پہلے سے موجود ایسے پاسپورٹ ایکٹ کے نفاذ کے 30 دن کے اندر مقررہ اتھارٹی کے پاس جمع کرانا ہوتے۔ بل کے مطابق یہ عہدیدار جہاں اہل ہوں عام یا سرکاری پاسپورٹ حاصل کر سکتے یا رکھ سکتے تھے، اور کسی دوسرے عہدے، تقرری یا سفارتی ذمہ داری سے جڑا آزادانہ استحقاق متاثر نہ ہوتا۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا کہ پاسپورٹ رولز 2021 میں وزرائے مملکت سمیت مختلف عہدیداروں کو سفارتی پاسپورٹ دینے کا ذکر ہے۔ بل میں سفارتی پاسپورٹ کو ریاست کی خصوصی سفری دستاویز قرار دیا گیا جس کا اجرا سفارتی یا ریاستی امور کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ عہدے کے باعث خودکار استحقاق کے طور پر۔ اس میں کہا گیا کہ ترمیم سرکاری فرائض یا سرکاری غیر ملکی دوروں کو محدود نہیں کرتی۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ تجویز پاکستان کے وزرا، مشیروں اور سینئر افسران کو سفارتی پاسپورٹ ملنے سے متعلق تھی، جو عوامی مراعات اور جوابدہی کا معاملہ ہے۔ سینیٹ کے مسترد کرنے سے پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت موجودہ نظام برقرار ہے۔



