سینیٹ نے یومِ سیاہ سے پہلے کشمیر پر قرارداد متفقہ منظور کرلی
سینیٹ نے پیر کو مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد وفاقی وزیر امیر مقام نے 27 اکتوبر کے یومِ سیاہ سے پہلے پیش کی۔

- سینیٹ نے 26 اکتوبر کو کشمیر قرارداد متفقہ طور پر منظور کی
- امیر مقام نے قرارداد پیش کی، جس میں کشمیریوں کے حقِ انتخاب کی حمایت کی گئی
- قرارداد میں اقوام متحدہ سے اپنی قراردادوں پر عمل کرانے اور حکومت سے سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا مطالبہ ہے
سینیٹ نے پیر کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اے پی پی کے مطابق یہ قرارداد 27 اکتوبر کو منائے جانے والے یومِ سیاہ سے پہلے منظور کی گئی۔
اجلاس کی صدارت پریذائیڈنگ افسر سینیٹر شہادت اعوان نے کی۔ ایکسپریس نیوز اور اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے ایوان میں قرارداد پیش کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت نے 27 اکتوبر کو کشمیر پر قبضہ کیا۔ اس میں بھارت کے جبری قبضے کی مذمت کی گئی اور اسے ناجائز قرار دیا گیا۔
قرارداد میں کشمیری عوام کے اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق کی حمایت کی گئی۔ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل کرائے، جبکہ حکومتِ پاکستان سے کہا گیا کہ وہ کشمیریوں کی سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھے۔
ایوان نے اقرا گلوبل یونیورسٹی، کتب پر پلاسٹک کور روکنے، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی اور ضابطہ فوجداری ترمیمی بل بھی منظور کیے۔ اقبالیات کے فروغ اور سرکاری انتظامیہ کو نوآبادیاتی نظام سے نجات دلانے کے بل قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیے گئے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی مخالفت کے بعد ایوان نے پاسپورٹس ترمیمی بل مسترد کردیا۔ امیگریشن ترمیمی بل اور اسلام آباد میٹرو بس سروس بل مؤخر کردیے گئے۔ فوجداری قوانین کے بل پر طلال چوہدری اور ثمینہ ممتاز زہری میں بحث کے بعد منظوری مؤخر ہوئی۔
ثمینہ ممتاز زہری کا اسلام آباد تحفظ صارفین ترمیمی بل حکومتی مخالفت کے باوجود دس کے مقابلے میں چار ووٹوں سے منظور ہوا۔ سینیٹر علی ظفر نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں پر تحفظات ظاہر کیے، طارق فضل چوہدری نے کمیشن سے مزید معلومات لینے کا کہا، اور مشال یوسفزئی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کی۔ اجلاس اگلے روز صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
قرارداد کشمیر پر پاکستان کے سرکاری مؤقف کو دہراتی ہے، جو ملک کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی بحث پر اثر انداز ہوتا ہے۔



