سینیٹ کمیٹی کا کاسمیٹکس اسمگلنگ روکنے کے نئے قانون کا اصولی فیصلہ، پی سی ایم اے کو رجسٹریشن کی ہدایت
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پیر کو پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کا جائزہ لیا۔ وفاقی حکومت نے اسمگلنگ روکنے کے لیے اس شعبے میں نیا قانون لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

- وفاقی حکومت نے کاسمیٹکس میں اسمگلنگ روکنے کے لیے نئے قانون کا اصولی فیصلہ کیا۔
- کمیٹی نے پاکستان کاسمیٹکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی سی ایم اے) کو رجسٹریشن کی ہدایت کی۔
- پی سی ایم اے حکام نے ترمیمی بل کی شق 2 کی ذیلی شق 4 پر اعتراض کیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان کاسمیٹکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی سی ایم اے) کو رجسٹریشن کروانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کے جائزے کے دوران دی گئی۔ وفاقی حکومت نے اسمگلنگ روکنے کے لیے کاسمیٹکس کے شعبے میں نیا قانون لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس پیر کو چیئرمین سینیٹر کامل علی آغا کی صدارت میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک ایسوسی ایشن کو خصوصی حق نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسوسی ایشن کو 100 نمائندگان پورے ہونے پر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے رجسٹریشن کروانی چاہیے، اور قانون سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ صرف ایک ایسوسی ایشن رجسٹر ہو سکتی ہے۔
وزارتِ قانون کے حکام نے کہا کہ جب تک کوئی ایسوسی ایشن رجسٹرڈ نہ ہو، اسے قانون میں جگہ نہیں دی جا سکتی۔
وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ اس بل سے کاسمیٹکس کے شعبے میں اسمگلنگ روکنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق بورڈ میں کاسمیٹکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو نمائندگی دی جائے گی۔
حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کاسمیٹکس مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن تمام متعلقہ اداروں میں رجسٹرڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کا دائرہ کار مزید وسیع ہو جائے گا۔
چیئرمین نے پوچھا کہ کیا ترمیمی بل کے لیے کوئی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ سینیٹر افنان اللہ نے سوال کیا کہ کیا متعلقہ حکام مجوزہ قانون سے مطمئن ہیں۔ کاسمیٹکس حکام نے جواب دیا کہ وہ اس سے خوش ہیں، تاہم پی سی ایم اے کے حکام نے ترمیمی بل کی شق 2 کی ذیلی شق 4 پر اعتراض اٹھایا۔
رضا حیات ہراج نے کہا کہ آل پاکستان جنرل کاسمیٹکس ایسوسی ایشن کا نام حتمی کیا گیا تھا، اور اگر اس نام پر اتفاق نہ ہوا تو ایسوسی ایشن رجسٹر نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایسوسی ایشن کی سابقہ شناخت اور ورثے کو متاثر نہیں کرنا چاہتی۔
یہ کیوں اہم ہے
اسمگل شدہ کاسمیٹکس ملک بھر کے خریداروں تک پہنچتا ہے اور رجسٹرڈ مقامی مینوفیکچررز کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ مجوزہ بل مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کا دائرہ کار وسیع کرے گا۔



