ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان1 ذرائع سے تصدیق شدہ

سپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدسلوکی ہو سکتا ہے

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی میں سنگین بدسلوکی، بشمول بیوی پر تشدد، سروس مس کنڈکٹ ہو سکتی ہے۔ عدالت نے انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے اس کی جبری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی۔

Panorama of the west facade of United States Supreme Court Building at dusk in Washington, D.C., United States of America.
Panorama of the west facade of United States Supreme Court Building at dusk in Washington, D.C., United States of America. تصویر: Joe Ravi / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • دفتری اوقات کے بعد بھی نجی زندگی میں سنگین بدسلوکی، بشمول بیوی پر تشدد، سروس مس کنڈکٹ ہو سکتی ہے۔
  • عدالت نے انٹیلی جنس بیورو کے باورچی کی جبری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی۔
  • فوجداری مقدمے میں بریت سے محکمانہ کارروائی خود بخود کالعدم نہیں ہوتی۔
13انکوائری میں سنے گئے گواہ
سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020حوالہ دیے گئے قواعد

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی نجی زندگی میں سنگین بدسلوکی، بشمول بیوی پر تشدد، سروس مس کنڈکٹ قرار پا سکتی ہے۔ 24 نیوز کے مطابق یہ اصول اس صورت میں بھی لاگو ہوتا ہے جب فعل دفتری اوقات کے باہر ہوا ہو اور سرکاری فرائض سے براہ راست تعلق نہ رکھتا ہو۔

عدالت نے انٹیلی جنس بیورو کے ملازم جواد عباسی کی درخواست خارج کر دی۔ وہ ادارے میں باورچی تھا اور اس پر بیوی کو آگ لگانے کا الزام تھا۔ عدالت نے اس کی جبری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی۔

جواد عباسی نے وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس نے اسے دی گئی محکمانہ سزا برقرار رکھی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت کو نہ کوئی قانونی غلطی ملی، نہ مناسب کارروائی کی خلاف ورزی، اور نہ ہی عوامی اہمیت کا کوئی اہم قانونی سوال۔

فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا، جبکہ بینچ میں جسٹس عائشہ اے ملک شامل تھیں۔ عدالت نے کہا کہ تشدد صرف اس لیے نجی معاملہ نہیں بن جاتا کہ وہ گھر کے اندر ہوا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ سول سرvoنٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت افسر کے شایانِ شان نہ ہونے والا طرزِ عمل دفتر سے باہر بھی مس کنڈکٹ ہو سکتا ہے۔ عدالت کے مطابق محض ایف آئی آر محکمانہ سزا کا جواز نہیں بن سکتی۔

انکوائری افسر نے 13 گواہوں کو ملازم کی موجودگی میں سنا اور اسے جرح کا موقع دیا۔ محکمانہ انکوائری میں بیوی پر تشدد اور واقعے کو اس کی خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش سمیت الزامات آزادانہ طور پر ثابت ہوئے۔

عدالت نے کہا کہ اگر شواہد سے بدسلوکی آزادانہ طور پر ثابت ہو جائے تو فوجداری مقدمے میں بریت سے محکمانہ کارروائی خود بخود کالعدم نہیں ہوتی۔ فوجداری اور محکمانہ کارروائیوں کے مقاصد مختلف ہیں اور ثبوت کے معیار بھی مختلف ہیں۔

عدالت کے مطابق بریت کا مطلب یہ ہے کہ معقول شک سے بالاتر جرم ثابت نہیں ہوا، یہ سرکاری ملازمت کے لیے اہلیت کا سرٹیفکیٹ نہیں۔ ملازم کو اپنے دفاع کا موقع ملا اور جبری ریٹائرمنٹ کی سزا بدسلوکی کی سنگینی کے مطابق پائی گئی۔

یہ کیوں اہم ہے

اس فیصلے سے طے ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرکاری ملازمین سے دفتر کے باہر طرزِ عمل پر کیسے جواب طلب کیا جا سکتا ہے، جو افسران پر عوامی اعتماد سے جڑا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سپریم کورٹسرکاری ملازمینانٹیلی جنس بیورو

اس خبر پر مزید