ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار6 ذرائع سے تصدیق شدہ

سٹیٹ بینک نے شرح سود 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دی۔ مرکزی بینک نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں اور گندم کی سپلائی میں رکاوٹوں کو وجہ قرار دیا۔

New building of the European Central Bank in Frankfurt Main, Germany.
New building of the European Central Bank in Frankfurt Main, Germany. تصویر: Norbert Nagel / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • شرح سود 50 بیسز پوائنٹس بڑھ کر 12 فیصد، 27 اکتوبر 2026 سے نافذ
  • مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے اضافے کی حمایت کی
  • ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد سالانہ رہی، جبکہ ہدف 5 سے 7 فیصد ہے
12 فیصدنئی شرح سود
50 بیسز پوائنٹساضافہ
10.3 فیصد سالانہستمبر کی مہنگائی
تقریباً 21.5 ارب ڈالرسٹیٹ بینک کے ذخائر

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو شرح سود 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دی، جو پہلے 11.5 فیصد تھی۔ مرکزی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، توانائی کی بلند قیمتوں اور ملک میں گندم کی سپلائی کی رکاوٹوں سے مہنگائی کا منظرنامہ خراب ہوا ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 10 میں سے 9 ارکان کی اکثریت سے اضافے کی منظوری دی۔ نیا ریٹ 27 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ کمیٹی کے مطابق یہ فیصلہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے، رسد کے جھٹکے کو وسیع تر قیمتوں میں منتقل ہونے سے روکنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حد میں لانے کے لیے ضروری تھا۔

ستمبر میں صارفین کی مہنگائی 10.3 فیصد سالانہ رہی، جو کمیٹی کی توقعات سے زیادہ تھی، اور اس میں توانائی اور گندم کی قیمتوں کا نمایاں کردار رہا۔ بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد پر برقرار رہی۔ سٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی توقعات بڑھا سکتا ہے اور بالآخر بنیادی مہنگائی میں شامل ہو سکتا ہے۔ عالمی اجناس کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، توانائی ٹیرف میں غیر متوقع تبدیلی، گندم اور متعلقہ اشیا میں مزید اضافہ اور موسمی حالات بھی خطرات میں شامل ہیں۔

کمیٹی کے مطابق قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی سے معاشی سرگرمی بتدریج بحال ہو رہی ہے۔ مالی سال 27 کے جولائی اگست میں بڑی صنعتوں کی پیداوار 1.9 فیصد سالانہ بڑھی، جبکہ مالی سال 26 کی چوتھی سہ ماہی میں یہ 0.4 فیصد تھی۔ سیمنٹ اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت، نجی شعبے کے قرضے اور پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس بھی بہتر سرگرمی ظاہر کرتے ہیں۔ کمیٹی نے مالی سال 27 کے لیے جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد برقرار رکھا، تاہم خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی اور ایل نینو کے بگڑتے حالات سے بحالی متاثر ہو سکتی ہے۔

بیرونی شعبے میں مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر رہا کیونکہ درآمدات بڑھیں۔ چاول، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور خدمات کی برآمدات میں بہتری آئی، جبکہ ترسیلات زر مستحکم رہیں۔ کمیٹی کو توقع ہے کہ پورے سال کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کی تخمینہ حد میں رہے گا۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔

کمیٹی نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے۔ مالی سال 27 کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی سالانہ 7 فیصد بڑھی اور ہدف سے 33 ارب روپے زیادہ رہی۔ مجموعی اور پرائمری بیلنس سرپلس میں رہے، تاہم کمیٹی کے مطابق توانائی کی عالمی قیمتوں اور کشیدگی نے مالیاتی انتظام مزید مشکل بنا دیا ہے۔

9 اکتوبر تک براڈ منی (M2) کی نمو 12.7 فیصد سالانہ رہی، جو 28 اگست کو 11.4 فیصد تھی۔ نجی شعبے کے قرضے 14.1 فیصد سالانہ بڑھے، جن میں ورکنگ کیپیٹل، مستقل سرمایہ کاری اور صارف مالکاری شامل ہیں۔ ٹیکسٹائل، تھوک و پرچون تجارت اور زراعت بڑے قرض لینے والے شعبوں میں رہے۔ کمیٹی کو توقع ہے کہ معاشی بحالی کے ساتھ قرضوں کی رفتار برقرار رہے گی۔

یہ کیوں اہم ہے

شرح سود بڑھنے سے پاکستان میں قرضوں اور کاروبار کی لاگت متاثر ہوتی ہے۔ کمیٹی کے مطابق نجی شعبے کے قرضے 14.1 فیصد سالانہ بڑھ رہے تھے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سٹیٹ بینکشرح سودمہنگائی

اس خبر پر مزید