ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار16 ذرائع سے تصدیق شدہ

سٹیٹ بینک نے شرح سود 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کردی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے دس میں سے نو ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔

State Bank of Pakistan (old Bulding)
State Bank of Pakistan (old Bulding) تصویر: khadim-un-nabi Rao / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 12 فیصد، اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے
  • ایم پی سی کے دس میں سے نو ارکان نے اضافے کی حمایت کی
  • مرکزی بینک نے مشرق وسطیٰ کے تنازع سے توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے خراب منظرنامے کا حوالہ دیا
  • ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ اپریل کے بعد پہلا اضافہ ہے
12 فیصدنئی پالیسی ریٹ
50 بیسس پوائنٹساضافہ
10 میں سے 9اضافے کے حق میں ووٹ
5 سے 7 فیصدمہنگائی کا ہدف

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر 26 اکتوبر 2026 کو پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا۔ اس سے پہلے شرح 11.5 فیصد تھی۔ مرکزی بینک کے بیان کے مطابق فیصلے کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بتایا کہ اس کے دس میں سے نو ارکان نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ کمیٹی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا تنازع اور جلد حل کے کم ہوتے امکانات عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو بلند رکھے ہوئے ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ فعال مالیاتی پالیسی اور مالی نظم و ضبط کے باعث عالمی جھٹکے کا ملکی معیشت پر اثر اب تک محدود رہا، تاہم جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے پچھلے اندازے کے مقابلے میں مہنگائی کے منظرنامے کو خراب کیا ہے۔ بیرونی کھاتے اور معاشی نمو کا منظرنامہ مجموعی طور پر برقرار ہے، مگر دونوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ایم پی سی کے مطابق اضافہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے، رسد کے جھٹکے کے ثانوی اثرات محدود کرنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں لانے کے لیے ضروری تھا۔

پریس کانفرنس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل ہونے سے ملکی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ ان کے مطابق جولائی اور اگست کے جائزوں میں سال کے آخر تک مہنگائی 7 فیصد کے آس پاس رہنے کا اندازہ تھا، مگر حالیہ پیش رفت سے اس میں تبدیلی آئی ہے اور اب پرانی سطح تک آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مہنگائی میں بہتری آئی ہے مگر توانائی کی مہنگائی آنے والے مہینوں میں ثانوی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔

گورنر کے مطابق مرکزی بینک کو توقع ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں اور پورے سال کے لیے اب 44 سے 45 ارب ڈالر کی توقع ہے۔ انہوں نے ترسیلات پر انعامی اسکیم کا بھی ذکر کیا۔

جمیل احمد نے کہا کہ رواں مالی سال برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے، تاہم نمو توقعات سے کم ہے۔ درآمدی بل تقریباً 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے بیرونی توازن سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ستمبر میں ایم پی سی نے شرح 11.5 فیصد پر برقرار رکھی تھی۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے میں اعلان سے قبل 49 فیصد نے کوئی تبدیلی نہ ہونے اور 49 فیصد نے اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

پالیسی ریٹ پاکستان میں قرضوں اور کاروباری قرضوں کی لاگت پر اثر ڈالتا ہے۔ مرکزی بینک نے اضافے کو توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے خراب منظرنامے سے جوڑا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسٹیٹ بینکشرح سودمہنگائی

اس خبر پر مزید