روسی حملوں سے یوکرین میں 8 لاکھ 50 ہزار افراد بجلی سے محروم
رات بھر روسی حملوں میں یوکرین کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یہ بھی بتایا کہ روس نے کومیشووخا میں مہلک حملے کی جگہ پر ڈرون حملہ کیا۔

- رپورٹس کے مطابق رات بھر کے حملوں سے ملک بھر میں 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بجلی سے محروم ہوئے۔
- ڈی ٹی ای کے کے مطابق دنیپروپیتروفسک میں 6 لاکھ سے زائد رہائشیوں کی بجلی بند ہو گئی۔
- زیلنسکی کے مطابق کومیشووخا میں تلاش کے مقام پر ڈرون حملہ ہوا۔
- دنیپروپیتروفسک میں بجلی بتدریج بحال کی جا رہی تھی۔
یورونیوز کے مطابق رات بھر روسی حملوں کے نتیجے میں یوکرین بھر میں 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ فرانس 24 نے بھی بتایا کہ اتوار کو لاکھوں یوکرینی شہری بجلی کے بغیر رہے، جبکہ درجہ حرارت گرنے کے ساتھ کیف اور دیگر علاقوں کے رہائشیوں کو بجلی کی بندش کا سامنا رہا۔
یوکرین کی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے کہا کہ روسی افواج نے توانائی کے شعبے پر بڑا حملہ کیا اور مشرقی علاقے دنیپروپیتروفسک میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ کمپنی کے مطابق پاولوہراد، سامار، کامیانسکے اور دنیپرو کے اضلاع اور خود دنیپرو شہر کے 6 لاکھ سے زائد رہائشی بجلی سے محروم ہو گئے۔ حکام کے مطابق وہاں بجلی بتدریج بحال کی جا رہی تھی۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ بجلی کی بندش خارکیف اور ژیتومیر سمیت کئی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ژیتومیر میں روسی حملے کے بعد 140 اپارٹمنٹ عمارتوں میں حرارت کا نظام بند ہے۔ خارکیف کے مقامی حکام نے بتایا کہ علاقے میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار صارفین کی بجلی گئی تھی، جو اب بحال ہو چکی ہے۔
زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ روس نے کومیشووخا میں حالیہ حملے کی جگہ پر ڈرون سے حملہ کیا، جہاں امدادی کارکن تلاش کا کام کر رہے تھے۔ پیر کو وہاں بمباری میں کم از کم 55 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زیلنسکی نے کہا: "بدقسمتی سے ملبے تلے مزید لوگ ہو سکتے ہیں۔ یہ سراسر بے رحمی اور سفاکی ہے۔" (انگریزی سے ترجمہ) یوکرین کی ایمرجنسی سروس کے مطابق روس نے جان بوجھ کر امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا، تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔
پیر کے حملوں میں ایک اسکول بھی نشانہ بنا جس کے بارے میں کیف کا کہنا ہے کہ وہ انسانی امداد کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ یہ حملے ایک نادر مقامی جنگ بندی کے بعد ہوئے جس میں روس کے زیر قبضہ شہر اولیشکی سے خیرسون کے علاقے میں شہریوں کو نکلنے کا موقع ملا تھا۔
علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکسانڈر ہانژا کے مطابق اتوار کو دنیپرو کی ایک رہائشی آبادی پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا: "آگ بھڑک اٹھی ہے۔ کم از کم ایک نجی مکان تباہ ہو گیا ہے۔ خیال ہے کہ لوگ ملبے تلے پھنسے ہو سکتے ہیں۔" (انگریزی سے ترجمہ)
زیلنسکی کے مطابق گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین پر 115 میزائل، تقریباً 1900 گائیڈڈ فضائی بم اور 3 ہزار سے زائد حملہ آور ڈرون داغے۔ انہوں نے کریملن پر الزام لگایا کہ وہ ابوظہبی میں کیف، ماسکو اور واشنگٹن کے مجوزہ سہ فریقی مذاکرات سے پہلے یوکرین کے مذاکراتی مؤقف پر دباؤ ڈالنے کے لیے حملے تیز کر رہا ہے۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 7 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ کیف کے علاقے میں توانائی کی تنصیبات اور ایک پل پر روسی حملے ہوئے، اور زیلنسکی نے کہا تھا کہ ماسکو ابوظہبی مذاکرات سے پہلے یوکرین کو اندھیرے میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ 8 نومبر کو خبر ڈاٹ پی کے نے بتایا کہ فرانس کے وزیر خارجہ کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں یورپی ممالک شریک ہوں گے، جو منگل اور بدھ کو ہونے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ جنگ ایک بڑا عالمی تنازع ہے جسے پاکستانی قارئین قریب سے دیکھتے ہیں، اور اس کا اثر دنیا میں توانائی کی قیمتوں اور سفارت کاری پر پڑتا ہے۔ ابوظہبی مذاکرات قریب ہیں اور اسی موقع پر یوکرین کے بجلی کے نظام پر حملے بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔



