قومی اسمبلی میں پانچ سال کی 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر سوالات
وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک 11 ہزار 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے ارکان نے پوچھا کہ فائدہ کسے ملا اور عام آدمی کو کیا ریلیف ملا۔

- وزارت خزانہ: پانچ سال میں 11 ہزار 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ
- انکم ٹیکس میں 580 ارب، سیلز ٹیکس میں ایک ہزار 274 ارب اور کسٹم ڈیوٹی میں 499 ارب روپے
- پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے ارکان کا فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیل کا مطالبہ
وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک پانچ سال میں مجموعی طور پر 11 ہزار 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ تفصیلات اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے وقفہ سوالات میں پیش کی گئیں۔
وزارت کے مطابق اس چھوٹ میں انکم ٹیکس کی مد میں 580 ارب، سیلز ٹیکس میں ایک ہزار 274 ارب اور کسٹم ڈیوٹی میں 499 ارب روپے شامل ہیں۔
پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ ارکان کو ٹیکس چھوٹ کے بارے میں مبہم معلومات دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت بتائے کہ ان رعایتوں سے عام شہریوں کو کتنا ریلیف ملا۔
عالیہ کامران نے کہا کہ قومی خزانہ عوام کے ٹیکسوں سے چلتا ہے، مگر ایف بی آر ان لوگوں سے ٹیکس وصول نہیں کر سکا جنہیں ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کی قیمت پر مراعات یافتہ طبقے کو فائدہ پہنچانے والی چھوٹ ختم ہونی چاہیے اور فائدہ اٹھانے والوں کی مزید تفصیلات عام کی جائیں۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ارکان گزشتہ چار سال میں دی گئی 2.3 ٹریلین روپے کی ٹیکس رعایتوں کا معاملہ اسمبلی میں اٹھا چکے ہیں۔ ان کے مطابق وزارت خزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ فائدہ اٹھانے والے افراد، اداروں اور شعبوں کی نشاندہی کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک سال میں تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے وصول کیے جبکہ دوسروں کو بڑی چھوٹ دی گئی۔
شرمیلا فاروقی نے آٹے، ایل پی جی اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں پر بھی حکومت پر تنقید کی۔ ان کے مطابق ایل پی جی اس سطح پر پہنچ گئی ہے کہ گھرانوں کے لیے سلنڈر خریدنا مشکل ہے، اور ڈی اے پی کھاد 18 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ وزیر تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور بار بار کی یقین دہانیاں واضح پالیسی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹے کی قیمت کا معاملہ اسمبلی میں اٹھایا جائے گا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسی اجلاس میں حکومت نے یوریا کی قلت کی تردید کی، تاہم ڈی اے پی کی قیمت 14 ہزار 500 سے بڑھ کر 17 ہزار 500 روپے ہونے کا اعتراف کیا۔ ایل پی جی پر غریب گھرانوں کو ریلیف دینے کی نئی پالیسی ایک سے دو روز میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اسمبلی نے متعدد ترمیمی بلز منظور کیے، اور کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس منگل کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
اتنی بڑی ٹیکس چھوٹ سے عوامی خدمات کے لیے دستیاب آمدن متاثر ہوتی ہے، جبکہ گھرانوں کو آٹے، ایل پی جی اور کھاد کی بلند قیمتوں کا سامنا ہے۔



