ابھی ابھیغیر ملکی معدنی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کا منصوبہسپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدعنوانی ہےپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

راولپنڈی رنگ روڈ کا افتتاح چھٹی بار مؤخر

راولپنڈی رنگ روڈ کا افتتاح چھٹی مرتبہ مؤخر ہو گیا ہے کیونکہ ایک انٹرچینج اور ٹولنگ سسٹم نامکمل ہیں۔ راولپنڈی کے کمشنر نے نومبر میں اسے مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

A view of the interchange between Interstate 35E and Texas State Highway Spur 366 from the GeO-Deck of Reunion Tower in Dallas , Texas ( United States ).
A view of the interchange between Interstate 35E and Texas State Highway Spur 366 from the GeO-Deck of Reunion Tower in Dallas , Texas ( United States ). تصویر: Michael Barera / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • راولپنڈی رنگ روڈ کا افتتاح چھٹی بار مؤخر
  • ٹھلیاں انٹرچینج، ٹول بوتھ، آئی ٹی ایس اور الیکٹرانک ٹول سسٹم نامکمل
  • لاگت 26.9 ارب روپے سے بڑھ کر 58 ارب روپے سے زیادہ ہو گئی
  • کمشنر کا ہدف نومبر میں مکمل افتتاح
38.3 کلومیٹرسڑک کی لمبائی
26.9 ارب روپےابتدائی تخمینہ لاگت
58 ارب روپے سے زیادہموجودہ لاگت
30 جون 2028اسلام آباد رنگ روڈ کی ڈیڈ لائن

تقریباً دو دہائیوں سے زیر التوا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا افتتاح چھٹی مرتبہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ایک انٹرچینج ابھی نامکمل ہے جبکہ ٹولنگ اور ٹریفک مینجمنٹ کے اہم نظام نصب ہونا باقی ہیں۔

ٹول بوتھ، انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم (آئی ٹی ایس) اور الیکٹرانک ٹول کلیکشن سسٹم بھی تکمیل کے منتظر ہیں، جس سے منصوبے کا مکمل آپریشنل آغاز مزید تاخیر کا شکار ہے۔

منصوبے کی ابتدائی تخمینہ لاگت 26.9 ارب روپے تھی۔ اب یہ 58 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور تکمیل تک 60 ارب روپے کے قریب پہنچنے کا امکان ہے، جس سے یہ منصوبہ مالی بوجھ بن گیا ہے۔

منصوبے کا تصور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں پیش کیا گیا، جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

یہ سڑک 38.3 کلومیٹر طویل ہے اور اس میں چھ لینز اور پانچ انٹرچینج ہیں۔ نقطہ آغاز بنتھ انٹرچینج، چک بیلی خان، اڈیالہ روڈ اور چکری انٹرچینج مکمل ہو چکے ہیں۔ روٹ کے اختتام کے قریب ٹھلیاں انٹرچینج ابھی نامکمل ہے۔

راولپنڈی کے کمشنر نے فیصلہ کیا ہے کہ نومبر میں رنگ روڈ کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے، تاکہ شہر سے بھاری ٹریفک ختم ہو اور ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہو۔

دوسری جانب اسلام آباد رنگ روڈ منصوبے کے لیے، جو ٹیکسلا کو بھارہ کہو اور بھارہ کہو کو راوت۔بنتھ سے ملاتا ہے، تکمیل کی مدت 30 جون 2028 مقرر کی گئی ہے۔

دونوں منصوبے مکمل ہونے پر راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والا وسیع رنگ روڈ نیٹ ورک بن جائے گا۔ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب کے درمیان سفر کرنے والی بھاری گاڑیاں، بشمول کراچی کی جانب جانے والی، جڑواں شہروں سے باہر ہی باہر گزر سکیں گی۔

یہ کیوں اہم ہے

راولپنڈی اور اسلام آباد کے مسافروں کو سڑک کھلنے اور ٹول نظام تیار ہونے کا مزید انتظار کرنا ہوگا۔ تاخیر کا اثر ان بھاری گاڑیوں پر بھی پڑتا ہے جنہیں جڑواں شہروں سے باہر گزرنا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

رنگ روڈراولپنڈی

اس خبر پر مزید