ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

پاکستانیوں کے لیے قطر میں آمد پر ویزا: 30 دن قیام اور شرائط

گلف نیوز کے مطابق پاکستانی شہری قطر پہنچ کر 30 دن کا سیاحتی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔ مسافروں کو رقم، ٹکٹ، انشورنس اور ہوٹل بکنگ سے متعلق شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

Photo: visa, paper, passport visa, stamp
Photo: visa, paper, passport visa, stamp تصویر: jaydeep_ / Pixabay
اہم نکات
  • ویزا 30 دن کے لیے ہے اور مزید 30 دن بڑھایا جا سکتا ہے۔
  • 5,000 قطری ریال یا اس کے برابر کریڈٹ کارڈ پر رقم، واپسی کا ٹکٹ اور چھ ماہ کی مدت والا پاسپورٹ لازمی ہے۔
  • ڈسکور قطر کے ذریعے ہوٹل بکنگ اور 50 ریال کی ہیلتھ انشورنس درکار ہے۔
30 دنویزے کی مدت
5,000 قطری ریالکم از کم رقم
50 قطری ریالہیلتھ انشورنس کی قیمت
6 ماہپاسپورٹ کی مطلوبہ مدت

گلف نیوز کے مطابق پاکستانی شہری قطر پہنچنے پر 30 دن کا سیاحتی ویزا حاصل کر سکتے ہیں، اور اس کے قواعد و شرائط بیان کی گئی ہیں۔ بی بی سی اردو نے بھی رپورٹ کیا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے آمد پر ویزے کی سہولت بحال ہو گئی ہے۔

ویزا 30 دن کے لیے کارآمد ہے اور متعلقہ شرائط کے تحت مزید 30 دن کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔ توسیع سے پہلے واپسی کا confirmed ٹکٹ ہونا ضروری ہے۔

درخواست گزاروں کو کم از کم 5,000 قطری ریال، یا اس کے برابر رقم کسی درست کریڈٹ کارڈ پر، بطور ثبوت دکھانا ہوگی۔ ان کے پاس واپسی کا تصدیق شدہ ٹکٹ اور کم از کم چھ ماہ کی مدت والا پاسپورٹ بھی ہونا چاہیے۔

ہوٹل کا کمرہ ڈسکور قطر کے ذریعے بک کرانا لازمی ہے۔ ہوٹل بکنگ کے مطابق ویزے کی مدت 30 دن سے کم بھی ہو سکتی ہے۔

زائرین کو کم از کم ایک ماہ کی ہیلتھ انشورنس خریدنا ہوگی جس کی قیمت 50 قطری ریال ہے۔ کیو آئی سی اور کیو ایل ایم تجویز کردہ کمپنیوں میں شامل ہیں، جبکہ منظور شدہ کمپنیوں کی فہرست قطر کی وزارت صحت عامہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ خریداری کے بعد رجسٹرڈ ای میل پر رسید اور انشورنس سرٹیفکیٹ بھیجا جاتا ہے، اور دونوں دستاویزات سفر میں ساتھ رکھنا ہوں گی۔

براہ راست پاکستان سے آنے والے مسافروں کو پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنا ہوگا۔ بزنس ویزا صرف منظور شدہ کمپنیوں کے ذریعے دیا جاتا ہے۔

دوحہ کے حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کو امیگریشن کاؤنٹرز سے پہلے ڈسکور قطر ڈیسک پر جانا ہوگا جہاں دستاویزات کی تصدیق اور مہر لگتی ہے۔ اس کے بعد امیگریشن پر ویزا کارروائی، آنکھوں کا اسکین اور بایومیٹرک جانچ ہوتی ہے۔

30 مارچ کو دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے نے ایڈوائزری جاری کی تھی کہ موجودہ صورتحال کے باعث یہ سہولت عارضی طور پر دستیاب نہیں۔ سفارت خانے نے مسافروں کو روانگی سے پہلے ویزا لینے کا مشورہ دیا اور خبردار کیا کہ بغیر ویزا پہنچنے والوں کو داخلے کی پابندیوں اور امیگریشن میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قطر جانے کا ارادہ رکھنے والے پاکستانی آمد پر ویزا لے سکتے ہیں، مگر رقم، ٹکٹ، ہوٹل اور انشورنس پہلے سے طے کرنا ہوگی، جس سے ان کے سفری منصوبے اور اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

قطرویزاسفر

اس خبر پر مزید