ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

پنجاب میں تین سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا ہدف مقرر

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اگلے تین سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ فیصلہ اسکل ڈویلپمنٹ منصوبوں کا جائزہ لینے والے خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔

Workshop at Regional Vocational Training Centre in Knjaževac
Workshop at Regional Vocational Training Centre in Knjaževac تصویر: Neboysha87 / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • تین سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا ہدف
  • پنجاب میں 4 لاکھ نوجوانوں کی تربیت مکمل ہو چکی
  • سینٹرز آف ایکسیلینس اور ڈیجیٹل امتحانی نظام کا منصوبہ
  • مہیر اور گلوبل روزگار میں 25، 25 ہزار نوجوانوں کا ہدف
10 لاکھ نوجوانتین سال کا ہدف
4 لاکھتربیت مکمل
38 ہزار سے زائدبیرون ملک روزگار
13پروگرام میں زبانیں

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اسکل ڈویلپمنٹ منصوبوں پر خصوصی اجلاس کی صدارت کی اور اگلے تین سال میں مجموعی طور پر 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کا ہدف مقرر کیا۔

اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پنجاب میں 4 لاکھ نوجوانوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، ان میں سے 45 فیصد سے زائد برسرروزگار ہیں اور کئی نے تعلیم جاری رکھنے کو ترجیح دی۔

اسکل ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیپارٹمنٹ کے تحت تربیت مکمل کرنے والے تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار نوجوانوں کو اچھا روزگار ملا، جبکہ 38 ہزار سے زائد نے بیرون ملک ملازمت حاصل کی۔ مجموعی طور پر 90,029 کو مقامی صنعت میں نوکری ملی، 53,509 نے اپنا کاروبار شروع کیا، 38,557 بیرون ملک گئے اور 39,325 نے تعلیم جاری رکھی۔

شعبہ وار دیکھا جائے تو مینوفیکچرنگ میں 113,333 طلبہ نے تربیت مکمل کی اور 50 ہزار سے زائد کو فوری روزگار ملا۔ آئی ٹی میں 111,607 نوجوانوں کو تربیت دی گئی اور 49,588 نے کمانا شروع کیا۔ زراعت اور لائیو اسٹاک میں 23,269 نے تربیت مکمل کی اور 10,033 کو روزگار ملا۔ تعمیرات میں 27,069 تربیت یافتہ ہوئے اور 12,026 ملازم ہیں۔ توانائی میں 35,227 کی تربیت ہوئی اور 15,651 کو نوکری ملی۔ ہاسپٹیلٹی اور سیاحت میں 15,319 کی تربیت ہوئی اور 6,807 ملازم ہیں۔

پنجاب میں پہلا جدید عالمی معیار کا سینٹر آف ایکسیلینس قائم کیا جائے گا، جس میں تکنیکی تربیت، ڈیجیٹل امتحانات، آن لائن رجسٹریشن پورٹل، ڈیجیٹل پرچے اور کیو آر کوڈ شامل ہوں گے۔ ڈیجیٹل امتحانی نظام میں 2 لاکھ سے 6 لاکھ تک امیدوار امتحان دے سکیں گے۔ الیکٹریکل، گاڑیوں اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں میں بھی سینٹرز آف ایکسیلینس بنیں گے۔

زراعت اور بھاری مشینری آپریٹر سرٹیفکیشن پروگرام شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ لینگویج لرننگ پروگرام کے تحت پنجاب میں پہلی بار 13 زبانوں کے کورسز ہوں گے۔ پنجاب کی پہلی کلیننگ اور کلینر اکیڈمی کی بھی منظوری دی گئی، جس میں پی سی سی اے کے تحت صفائی، ہیلتھ کیئر، ہاسپٹیلٹی اور گھریلو معاونت کی تربیت دی جائے گی۔

ویمن ایمپاورمنٹ تھرو آئی ٹی پروگرام کے تحت دیہات کی 3 ہزار خواتین گھر بیٹھے کمانے لگی ہیں۔ 15,065 اساتذہ اور عملے کو تربیت ملی، جبکہ 220 کمپیوٹر لیبز، 100 صنعتی سلائی لیبز، 70 سولر لیبز، 27 ہیلتھ کیئر لیبز، ایک وی آر ویلڈنگ لیب اور ایک الیکٹرک وہیکل لیب اپ گریڈ کی گئیں۔

مہیر پروگرام کے تحت لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ملتان کے صنعتی کلسٹرز میں 25 ہزار نوجوانوں کی تربیت کا ہدف ہے۔ گلوبل روزگار پروگرام کے تحت بی پی او شعبے میں 25 ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی۔ پنجاب کے ایک ٹیکنیکل کالج کے تربیت یافتہ الیکٹریشن نے شنگھائی میں 48ویں ورلڈ اسکلز مقابلے میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

یہ کیوں اہم ہے

اس مہم کا مقصد پنجاب بھر کے نوجوانوں کے لیے روزگار اور ملازمت کے مواقع بہتر بنانا ہے، چاہے وہ مقامی صنعت میں ہوں یا بیرون ملک۔

غلطی کی نشاندہی کریں

پنجاباسکل ڈویلپمنٹمریم نواز

اس خبر پر مزید