پنجاب میں 5734 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تکمیل کا ہدف جون 2027
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جون 2027 تک 5734 واٹر فلٹریشن پلانٹ مکمل کرنے کا ہدف دیا ہے۔ انہوں نے یہ ہدایت صاف پانی اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔

- جون 2027 تک 5734 فلٹریشن پلانٹس کا ہدف
- اسسٹنٹ کمشنر نگرانی کریں گے، عوامی کمیٹیاں بنیں گی
- ہر تحصیل میں موبائل مینٹیننس یونٹ قائم ہوگا
- چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے لیے لاسٹ مائل واٹر سپلائی منصوبہ منظور
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں 5734 واٹر فلٹریشن پلانٹس جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے یہ ہدایت صاف پانی اتھارٹی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔
وزیراعلیٰ نے فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے سپرد کر دی۔ اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں گلی محلوں میں موجود فلٹریشن پلانٹس کے لیے عوامی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
فلٹریشن پلانٹس کی مرمت اور بحالی کے لیے ہر تحصیل میں موبائل مینٹیننس یونٹ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ موبائل ورکشاپ میں پلمبر اور دیگر تکنیکی عملہ تعینات ہوگا۔
مریم نواز شریف نے لاسٹ مائل واٹر سپلائی پراجیکٹ کی منظوری بھی دی۔ اس کے تحت چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پانی فراہم کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق چکوال میں 256 کلومیٹر اور راجن پور میں 1780 کلومیٹر تک واٹر سپلائی منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر بنایا جائے گا۔
اجلاس کو پنجاب کے چار اضلاع خوشاب، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں جاری واٹر بوٹلنگ پلانٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ان کی روزانہ پیداوار 10 ہزار سے 19 ہزار لیٹر پانی کی بوتلیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ سے مختصر عرصے میں 48 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ سی ایم واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ کے تحت 75 ہزار سے زائد بوتلیں گھروں تک پہنچائی گئیں۔
مریم نواز نے کہا کہ صاف پانی عوام کا حق ہے اور ہر فرد کو ملے گا۔ ان کے مطابق چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے بعد دیگر علاقوں میں بھی واٹر سپلائی سکیمیں لائی جائیں گی، تاکہ کسی کو میلوں دور سے پینے کا پانی لانے کی مشقت نہ کرنی پڑے۔
یہ کیوں اہم ہے
اس فیصلے کا تعلق پنجاب کے ان شہریوں سے ہے، خصوصاً چکوال، راجن پور اور راولپنڈی میں، جو پینے کے صاف پانی کے لیے فلٹریشن پلانٹس اور واٹر سپلائی سکیموں پر انحصار کرتے ہیں۔



